،کیا فرماتے ہیں علماءکرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری بہن نے عدالت سے خلع کی ڈگری لی ہے ، تو اس کے متعلق معلوم کرنا ہے کہ یہ خلع شرعاً معتبر ہے کہ نہیں اور کیا ہم اپنی بہن کا نکاح کسی دوسری جگہ کرا سکتے ہیں کہ نہیں ؟ خلع لینے کی وجہ یہ ہوئی کہ میرے بہنوئی امین خان بسلسلہ ملازمت بحرین میں تھے ، بیوی بھی ان کے ساتھ تھی ، پھر ان کو وہاں سے قطر جانا تھا تو اس نے ہماری بہن کو پاکستان بھیج دیا ، اوریہ کہا کہ میرے والدین کے گھر نہ جاؤ بلکہ اپنے والدین کے گھر چلی جاؤ، تو ہماری بہن اپنے گھر آگئی اور اس کے بعد تقریباً اب دس سال پورے ہونے والے ہیں کہ ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے کہ مردہ ہے ، زندہ ہے ، کس حال میں ہے ؟اس لئےمجبوراً ہم نے عدالت سے خلع کی ڈگری لی ہے ، اب اس کے متعلق جو بھی شرعی حکم ہو ،تحریر فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ عدالتی خلع محض یکطرفہ کاروائی پر مشتمل ہے، جبکہ مفقود الزوج کے نکاح کو ختم کرنے کے لیے شرعاً مطلوب مکمل تحقیق و تفتیش اور شرائط کا لحاظ نہیں رکھا گیا، خصوصاً شوہر کے گھر والوں کو باقاعدہ عدالتی کارروائی میں شامل نہیں کیا گیا، اورنہ ہی ان سے معلومات اور تحقیق کی گئی، حالانکہ ان حالات میں شوہرسے متعلق ان لوگوں سے پوچھ گچھ اور ان کو فریق بنانا ضروری تھا۔اس لیے موجودہ تنسیخِ نکاح شرعاً معتبر نہیں، اور سائل کی بہن بدستور اپنے غائب شوہر کے نکاح میں ہے، لہٰذا فی الحال اس کا دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ۔
البتہ اگر واقعی شوہر طویل عرصہ سے لاپتہ ہے، اس کی زندگی و موت کاکوئی علم نہیں ہے، اورنہ ہی اس کی بیوی کے لیےنان نفقہ کامناسب انتظام ہے،اور وہ شدید تنگی یا فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رکھتی ہے، تو اس صورت میں فسخِ نکاح کے لیے شرعی طریقہ کاراختیارکرناضروری ہےجویہ ہےکہ مفقود کی بیوی اپنا مقدمہ مسلمان قاضی کی عدالت میں پیش کرے اور گواہوں سے اپنا نکاح ثابت کرے، پھر گواہوں کے ذریعہ شوہر کے مفقود اور لاپتا ہونے کو ثابت کرے۔ اس کے بعد قاضی خود شوہر کی مکمل تفتیش و تلاش کروائے، جہاں اس کے جانے کا غالب گمان ہو ، وہاں آدمی بھیجے۔ چونکہ صورتِ مسئولہ میں شوہر بیرونِ ملک لاپتا ہوا ہے، اس لیے متعلقہ حکومتی و سفارتی اداروں، سفارت خانوں اور ریکارڈ رکھنے والے محکموں کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ اس کی تلاش کی کارروائی انجام دیں۔ اسی طرح شوہر کے گھر والوں کو بھی عدالتی کارروائی اور تحقیق میں شامل کرنا ضروری ہے ، تاکہ ان سے بھی مکمل معلومات حاصل کی جاسکیں۔
اگر بھرپور تلاش و تفتیش کے باوجود شوہر کا کوئی سراغ نہ ملے اور قاضی کو مایوسی ہوجائے تو عورت کو مزید چار سال انتظار کا حکم دیا جائے، پھر بھی اگر شوہر کا پتا نہ چلے تو عورت دوبارہ قاضی سے رجوع کرے، جس پر قاضی شوہر کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنا سکتا ہے، پھر عورت چار ماہ دس دن عدتِ وفات گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
البتہ اگر عورت کو زنا میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ ہو، یا شوہر کی طرف سے نفقہ کا انتظام نہ ہو اور سخت تنگی لاحق ہو، تو بعض صورتوں میں ایک سال مدت گزرنے کے بعدبھی قاضی نکاح فسخ کرسکتا ہے، ایسی صورت میں یہ تفریق طلاق بائن کے حکم میں شمارہوگی اور عورت عدتِ طلاق گزارکردوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہوگی۔
نیز واضح رہے کہ اگر شرعی طریقہ سےغائب کی موت کے فیصلے سے نکاح ختم کیا گیا ہو اور عورت نے بیوگی کی عدت مکمل کرنے کے بعد عقد ثانی کرلیا ہو پھر اس کے بعد پہلا شوہر واپس آجائے، تو فقہی تفصیل کے مطابق پہلے شوہر کا نکاح بدستور برقرار شمار ہوگا اور دوسرے شوہر سے فوراً علیحدگی لازم ہوگی، اور اگر دوسرے شوہر سے رخصتی ہوچکی ہو تو پہلے شوہر کے لیے اس وقت تک صحبت جائز نہ ہوگی جب تک عورت دوسرے شوہر کی عدت پوری نہ کرلے۔
کما في الحیلة الناجزۃ: طریق تطلیق زوجة المفقود أو الغائب الذی تعذر الإرسال إلیه أو ارسل الیه فتعاند إن کان لعدم النفقة فإن الزوجة تثبت بشاھدین، إن فلاناً زوجھا، وغاب عنھا، ولم یترک لھا نفقة، ولا وکیلاً بھا ولا اسقطتھا عنه، وتحلف علٰی ذٰلک، فیقول الحاکم: فسخت نکاحه أو طلقتک منه أو یأمرھا بذٰلک، ثم یحکم به، وھٰذا بعد التلوم بنحو شھر أو بإجتھادہ عند المالکیة، وفوراً أو متراخیاً عند الحنابلة، وبعد ثلاثة أیام عند الشافعیة، وإن کان لخوفھا الزنا وتضررھا بعدم الوطئ والعنا مع وجود النفقة والغنا فبعد صبرھا سنة فأکثر عند جلّ المالکیة، وبعد ستة أشھر عند الحنابلة اھ (ص134، ط: دار الاشاعت).
وفي الدر المختار: إنما يحكم بموته بقضاء لأنه أمر محتمل، فما لم ينضم إليه القضاء لا يكون حجة اهـ (كتاب المفقود، ج4، صـــ297، ط: سعید).
وفی الھدایة: وتکون الفرقة تطلیقة بائنة عند أبی حنیفة ومحمدؒ لأن فعل القاضی انتسب الیه کما فی العنین اهـ (كتاب الطلاق، باب اللعان، ج2، ص271 ط: دار إحياء التراث العربي).