السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا ایک سوال ہے۔ میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے، میری ابھی شادی نہیں ہوئی، اور میرے پاس کوئی ایسا محرم موجود نہیں جو میرے ساتھ عمرہ کے لیے جا سکے۔ میرے بھائی تو ہیں، لیکن ان کے پاس اس سفر کے اخراجات اور وسائل موجود نہیں ہیں۔کیا میری اس مجبوری کی صورت میں کسی قابلِ اعتماد اور معتبر عمرہ گروپ کے ساتھ اکیلے عمرہ کے لیے جانا شرعاً جائز ہوگا؟جزاکم اللہ خیراً۔
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کا اس سفر میں کوئی محرم ساتھ نہ ہو، تو سائلہ کا کسی گروپ کے ساتھ بغیر کسی محرم کے عمرہ کا سفر کرنا جائز نہیں ، البتہ اگر وہ گروپ کے ساتھ جاکر عمرہ کرتی ہے ، اس سے اگرچہ اس کا عمرہ ادا تو ہوجائے گا ،مگر بغیر محرم کے سفر کا گناہ لازم ہوگا ، اور اس خیر کے کام کو گناہ کے ساتھ جوڑنا درست طرز عمل نہیں ، لہذا ایسا کرنے سے احتراز چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: (و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا أو ذميا أو برضاع (بالغ) قيد لهما كما في النهر بحثا (عاقل والمراهق كبالغ) جوهرة (غير مجوسي ولا فاسق) لعدم حفظهما (مع) وجوب النفقة لمحرمها (عليها) لأنه محبوس (عليها) لامرأة حرة ولو عجوزا في سفر اھ
وفی رد المحتار تحت: (قوله حرة) مستدرك لأن الكلام فيمن يجب عليه الحج وقد مر اشتراط الحرية فيه، لكن أشار به إلى أن ما استفيد من المقام من عدم جواز السفر للمرأة إلا بزوج أو محرم خاص بالحرة فيجوز للأمة والمكاتبة والمدبرة وأم الولد السفر بدونه كما في السراج، لكن في شرح اللباب والفتوى: على أنه يكره في زماننا (قوله ولو عجوزا) أي لإطلاق النصوص بحر اھ (کتاب الحج ج:2 ص:464 ناشر: الحلبی)