السلام علیکم۔۔
ہم عمرہ کرنے کا ارادہ رکھ رہے ہیں اس کے لیے ہم یہ چاہ رہے ہیں کہ ہم پہلے مکہ جائیں ادھر سے ہوٹل میں ایک ادھا دن سٹے کریں اس کی ریزن یہ ہے کہ میرے ساتھ جو بزرگ ہیں وہ ایجڈ ہیں جو تھک جاتے ہیں اس کے بعد جب ہم مکہ میں سٹے کر لیں گے دو تین گھنٹے اس کے بعد پھر ہم مسجد عائشہ جا کر احرام باندھ کر نیت کر کے ا پھر ہم عمرہ کر سکتے ہیں یا اس کا اور طریقہ کار ہے کائنڈلی مجھے گائیڈ کیجیے گا۔۔
سائل اور اس کے ساتھ عمرے پر جانے والے عمر رسیدہ افراد کے لیے مکہ مکرمہ پہنچتے ہی فوری طور پر عمرے کے افعال ادا کرنا لازم اور ضروری نہیں، بلکہ سائل اور اس کے دیگر ساتھی اگر میقات سے گزرنے سے قبل عمرے کی نیت کرکے احرام باندھ لیں، پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر ہوٹل میں کچھ دیر آرام کرلیں اور اس کے بعد عمرے کے افعال ادا کرکے احرام سے نکل جائیں تو ایسا کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔ البتہ احرام باندھنے کے بعد حالتِ احرام میں زیادہ دیر رہنا اور احرام کی پابندیوں کا خیال رکھنا چونکہ مشکل ہوتا ہے، اس لیے حالتِ احرام میں زیادہ دیر رہنے کے بجائے کچھ دیر آرام کرنے کے بعد جلد از جلد عمرے کے افعال ادا کرکے احرام سے نکلنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
کما فی الرد تحت : (قوله وحرم إلخ) فعليه العود إلى ميقات منها وإن لم يكن ميقاته ليحرم منه، وإلا فعليه دم كما سيأتي بيانه في الجنايات اھ (2/477)۔
وفی الہندیة : (الباب الثاني في المواقيت) المواقيت التي لا يجوز أن يجاوزها الإنسان إلا محرما خمسة: لأهل المدينة ذو الحليفة ولأهل العراق ذات عرق، ولأهل الشام جحفة ولأهل نجد قرن، ولأهل اليمن يلملم، وفائدة التأقيت المنع عن تأخير الإحرام عنها كذا في الهداية اھ (1/221)۔