کیافرماتے ہیں علماء کرام مندجہ ذیل مسئلے کے با رے میں کہ اگر کو ئی عورت اپنے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈیگڑی وصول کر لے تو کیا اس سے نکاح ختم ہو جا تا ہے، یا با قی رہتا ہے دوسری بات یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی کی صورت میں بچوں کی کفالت پرورش کی ذمہ داری کس کی ہو گی؟ لڑکا عمر آٹھ سال اور لڑکی عمر نوسال جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول ضروری ہے چنانچہ اگرشوہر یا اسکے وکیل نے عدالت میں حا ضرہو کر منہ زبانی یا خلع کے کاغذات پر د ستخط کرتے ہوئے اس خلع پر رضامندی کا اظہار کیا، تو ایسی صورت میں یہ خلع شرعا درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم جائے گا،جس کے بعد عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر نے میں آزاد ہو گی، البتہ اگر شوہر یا اسکی جانب سے مقرر کر دہ وکیل نےاس خلع پر رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو بلکہ عدالت کی جانب سے یکطرفہ خلع کی ڈیگری جاری ہوئی ہو ، اور خلع لینے کی وجوہات میں اسباب فسخ نکاح میں سے کو ئی سبب بھی موجود نہ ہو تو اس طرح یکطرفہ خلع کی ڈیگری لینےسے شرعاً میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہو تا بلکہ برقرار رہتا ہے اور اس بنیاد پر عورت کا دوسری جگہ نکاح کر نا بھی درست نہ ہو گا ۔جبکہ اولاد کی پرورش کے بارےمیں شریعتِ مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیاں علیحدگی ہونے کی صورت میں لڑکی کی عمر نو سال اور لڑکے کی سات سال عمر ہونے تک ماں ہی اس کی پرورش کی حقدار ہوتی ہے ، بشرطیکہ اس دوران وہ بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرےاور اس دوران بچوں کی پرورش کےضروری اخراجات باپ کے ذمےلازم ہوں گے،اور اس مدت کے پورا ہو نے کے بعد باپ کو انہیں اپنی تحویل میں لینے کا حق حاصل ہو گا ۔
وفی قو لہ تعالی فان خفتم ان لا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فی ما افتدت بہ ( سورۃ البقرہ 229)
کما فی المبسوط للسرخسی : والخلع جائز عند السلطان وغیرہ لانہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وہو بمنزلۃ الطلاق الخ ( باب الخلع ،ج:6 ص: 173 ناشر:مطبعة السعاده)
وفی رد المختار :خلعھااو طلقہا بخمراو خنزیر او میتۃ ونحوھا مما لیس بمال وقع طلاق بائن فی الخلع ( فائدة في شرط قبول الخلع والفاظه ،ج:3 ص:446 ناشر سعید)
وفی ردالمختار: (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، و لا يستحق العوض بدون القبول(باب الخلع،ج:٣،ص؛٤٤١،مط:سعید)
و في الدر المختار : (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا(الى قوله) وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. وبنت إحدى عشرة مشتهاة اتفاقا زيلعي.( باب الحضانة،ج:٣،ص:٥٦٧،مط:سعيد)
وفي الهنديه:نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة(الفصل الرابع في نفقة الأولاد،ج:١،ص:٥٦٠،مط:ماجديه)
وفيه ايضاَ:أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي.( الى قوله)والأصل في ذلك أن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات فكانت جهة الأم مقدمة على جهة الأب كذا في الاختيار شرح المختار(الى قوله) وإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقها كذا في فتاوى قاضي خان(الى قوله) ولو تزوجت الأم بزوج آخر وتمسك الصغير معها أو الأم في بيت الراب فللأب أن يأخذها منها(الباب السادس عشر في الحضانة،ج:١،ص:٥٤١،مط:ماجديه)