گزارش یہ ہے کہ میرا نام جنید ہے میرا نکاح 13/3/2026 کو میرے چچا کی بیٹی رمشا سے ہوا تھا جس میں دونو ں خاندانو ں کی رضا مندی شامل تھی میرا نکاح جو کہ میری پسندکی لڑکی سے ہوا تھا ،میرے چچا نے میری فیملی کو رخصتی کا ایک سے ڈیڑھ سال دیا تھا 2ماہ تک سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا میرے تایا کی بیوی نے میرے سسرال والوں کو ایک امیر زادے کا رشتہ دکھایا اور میری بیوی سے کہا کہ جنید سے طلاق لے لو اور یہاں امیر لڑکے سے شادی کر لو میری بیوی کے انکار کرنے پر میری بیوی کو میرے ساس سسر اور میری تائی غیر محرم سے پارک میں ملوا کر لائی مجھ سے چھپاتے رہے ایک دن حقیقت میرے سامنے آگئی جس پر میں نے اپنی وائف کو اپنے گھر ساتھ لانے کا فیصلہ کیا یہ بات میرے سسر کو پتا چل گئی تھی جس پر میرے سسر نے میری وائف کو مارا پیٹا جس کی وجہ سے وہ ہسپتال میں 22دن رہ کر آئی میری وائف میرے ساتھ بہت خوش تھی ہمارے کچھ رشتے داروں نے اور میرے ساس سسر نے میرے اوپر جھوٹے الزامات لگائےجسکی وجہ سے میری وائف کے دل میں نفرت پیدا کر دی اور میرے گھر سے تعویز بھی نکلا ہے جس میں میرا نام اور میری وائف کا نام لکھا ہوا تھا ور طلاق کا لفظ لکھا تھا ور کچھ نقش بنا ہوا تھا جو کہ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا میں نے اپنے ساس سسر کو بہت بار منانے کی کوشش کی لیکن وہ لوگ نہیں مانے اور کہنے لگے کہ خود سے طلاق دو مجھے بہت مجبور کیا طلاق دینے پر میں نے طلاق نہیں دی اب مجھے خلع کی دھمکی دے رہے ہیں میری وائف کو حقیقت کا نہیں پتہ جسکی وجہ سے وہ بھی ماں باپ کے فیصلے پر راضی ہوگئی اور اگر میری وائف میرے ساتھ جانے کا بولتی ہیں تو لڑکی کی ماں باپ کہتے ہیں چلی جاؤ ہمیں پلٹ کر نہیں دیکھنا پھر میری وائف مجبور ہیں انکو حقیقت بھی نہیں پتہ مجھے حقیقت پتہ ہے میں طلاق دینا نہیں چاہتا اپنی وائف کےساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں اگر اس صورت میں لڑکی کی گھر والے عدالت سے خلع کی ڈگری لے لیتے ہیں تو کیا نکاح ختم ہو جائے گا ؟راہنمائی فرما دیں تفصیل سے لکھنے کا مقصد یہی تھا کہ بات صحیح طریقے سے سمجھا سکو ں اورمیری بیوی خلع کس صورت میں لے سکتی ہے ؟اسکی بھی وضاحت فرما دیں شکریہ
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس صحت کے لئے شرعا ًمیاں بیوی کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے جوکہ عموما یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقودہوتی ہے، لہذا سائل کی بیوی نے اگرسائل یا اسکے وکیل کی اجازت و رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کی تو اس سے سائل کانکاح ختم نہیں ہوگا بلکہ بدستور قائم ر ہےگا،لہذا سائل کے سسرال والوں کا بغیر کسی عذر کے سائل اور اس کی بیوی کے درمیان علیحدگی کرانا اور اس کے لئے عدالت سے رجوع کرنا شرعا جائز نہیں جس سے انہیں اجتناب لازم ہے۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يمكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والأخروكيل الزوج في الخلع (الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخر جا المال من ملكها اھ ( باب الحکمین کیف یعملان، ج :2، ص:191،مط:سھیل اکیڈمی لاھور)
وفي المبسوط لشمس الدين السرخسي : (قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره لانه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود وهو منزلة الطلاق الخ ( باب الخلع ،ج: 6ص:173،مط:دار الفکر)
وفی التاتار خانیۃ:الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ و یستحق علیھا العوض الخ(الفصل السادس العشر فی الخلع،ج:5،ص:5،مط:مکتبہ رشیدیہ)