میری بہن خلع لینا چاہتی ہے عدالت کے ذریعے اس کے لۓ بتا دے کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر سے خلع و طلاق کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، جس کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ جو عورت بغیر کسی عذر کے شوہر سے علیحدگی یا طلاق کا مطالبہ کرے، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گی۔ لہٰذا سائل کی بہن کے لیے بغیر کسی شرعی عذر کے اپنے شوہر سے خلع و طلاق کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔ البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو ایسی صورت میں سائل کی بہن کے لیے شوہر سے خلع وغیرہ کے ذریعے علیحدگی کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز ہوگا تاہم خلع میں چونکہ شوہر کی رضامندی بھی ضروری ہے، اس لیے سائل کی بہن کو ذریعۂ عدالت یکطرفہ خلع لینے کے بجائے شوہر کو کسی طرح خلع پر آمادہ کر کے اس کی اجازت و رضامندی سے خلع لینا چاہیے۔
کما فی «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة.(باب في الخلع،ج:2،ص:235،ح:2226ط:المطبعة الأنصارية بدهلي)
و فی شرح مختصر الطحاوي للجصاص :[ليس للحكمين في الشقاق التفريق إلا بالتفويض] قال: (وليس للحكمين في الشقاق أن يفرقا إلا أن يجعل ذلك إليهما الزوجان) قال أحمد: وروي عن علي رضي الله عنه مثل ذلك.اھ( باب مسألة الخلع، ج : ۴،ص: 456-ط : دار البشائر الإسلامية)
و فی فتح القدير للكمال بن الهمام : ولو ادعى النشوز وادعت هي ظلمه وتقصيره في حقها يفعل الحاكم ما يتفقان عليه من الجمع والتفريق، وليس لهما أن يجمعا ولا أن يفرقا بغير أمرهما ۔اھ( باب الخلع،ج :۴ ، ص : ۲۴۴ ، ط : دار الفكر)
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق بعوض۔(باب الخلع،ج؛6 ص: 173 ، ط؛ دار المعرفة)
و في موسوعة الفقه على المذاهب الأربعة: اتفق فقهاء المسلمين على أن الزوجين إذا وصلا إلى حالة من الشقاق و السباب و النفور و اشتد الخلاف بينهما و أشكل أمرهما و خيف من تعديهما إلى ما حرم الله أنه يبعث حكمان حكم من أهله و حكم من أهلها إن و جدا، فينظران بينهما و يفعلان ما يريان المصلحة فيه لهما من جميع أو تفريق لقوله تعالى: ﴿و إن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله و حكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما) [النساء: (٣٥).اھ(باب التحكيم عند الشقاق بين الزوجين، ج: ۱۶، ص: ۴۳۶، ط: دار التقوى).