کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جو بالکل صحت مند ہے اور مقیم ہے اور کوئی شرعی عذر بھی نہیں ہے، اس کے باوجود وہ شخص روزے نہیں رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ان روزوں کے بدلے فدیہ دے دوں گا تو ایسے شخص کا روزوں کے بدلے فدیہ دینا جائز ہے جو اب مع ادلہ عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کا صحت مند اور مقیم ہونے کے باوجود بغیر کسی عذر شرعی کے فدیہ پر اکتفاء کرنا اور روزہ نہ رکھنا بہت سخت گناہ کی بات ہے، اور احادیثِ مبارکہ میں اس پر سخت قسم کی وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں، اس پر لازم ہے کہ اس گناہ کبیرہ سے باز آجائے اور اب تک کے گناہ پر بصدق دل توبہ و استغفار کرکے گزشتہ روزوں کی قضاء کرے اور آئندہ کے لیے روزے رکھنے کا اہتمام کرے ۔
ففي تفسير ابن كثير: وقوله: فمن شهد منكم الشهر فليصمه هذا إيجاب حتم على من شهد استهلال الشهر، أي كان مقيما في البلد حين دخل شهر رمضان، وهو صحيح في بدنه أن يصوم لا محالة، ونسخت هذه الآية الإباحة المتقدمة لمن كان صحيحا مقيما أن يفطر ويفدي بإطعام مسكين عن كل يوم كما تقدم بيانه اھ (1/ 369)
و في فتح القدير للشوكاني: يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام إلى قوله وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين فكان من شاء صام، ومن شاء أطعم مسكينا فأجزأ ذلك عنه، ثم إن الله أنزل الآية الأخرى فمن شهد منكم الشهر فليصمه فأثبت الله صيامه على الصحيح المقيم، ورخص فيه للمريض والمسافر، وثبت الإطعام للكبير الذي لا يستطيع الصيام، ثم ذكر تمام الحديث. (1/ 208)
و في سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أفطر يوما من رمضان من غير رخصة ولا مرض، لم يقض عنه صوم الدهر كله وإن صامه» اھ (3/ 92)
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0