مفتیان کرام اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
سوال: کریڈٹ کارڈ کا استعمال شریعت کی روشنی میں جائز ہے یا نا جائز ؟ ہم جانتے ہیں کہ ایک ڈیبٹ کارڈ ہوتا ہے، جسے ہم اپنے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم نکالنے یا خریداری کے لیے اے ٹی ایم اور دیگر مقامات پر استعمال کرتے ہیں۔ اس کی نوعیت تو واضح ہے۔لیکن کریڈٹ کارڈ کے بارے میں ایک سوال ہے کہ کیا اس کا استعمال شریعت اسلامیہ کے مطابق جائز ہے یا نہیں ؟
عام طور پر کریڈٹ کارڈ کی ایک مخصوص حد (Limit) مقرر ہوتی ہے ، مثلاً 50,000 روپے۔ اس حد کے اندر رہتے ہوئے کارڈ ہولڈر خریداری کر سکتا ہے۔ اس کے بعد بینک ایک مقررہ مدت دیتا ہے، مثلاً ایک مہینہ ، اور اس مدت کے اختتام پر مزید چند دن ( مثلا 5 یا 10 دن کی مہلت ہوتی ہے کہ استعمال کی گئی پوری رقم بینک کو واپس کر دی جائے۔اگر مقررہ مدت کے اندر پوری رقم ادا کر دی جائے تو عام طور پر کوئی اضافی رقم وصول نہیں کی جاتی۔ لیکن اگر بر وقت ادائیگی نہ کی جائے تو بینک تاخیر کی وجہ سے جرمانہ یا سود وصول کرنا شروع کر دیتا ہے، اور مزید تاخیر کی صورت میں یہ اضافی رقم مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کی روشنی میں ایسے کریڈٹ کارڈ کا استعمال، جس میں تاخیر کی صورت میں سود یا جرمانے کی شرط موجود ہو ، جائز ہے یا نا جائز ؟ کیا مسلمان کے لیے اس قسم کا کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا درست ہے یا اس سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔
واضح ہو کہ کریڈٹ کارڈ کے اجراء کے وقت چونکہ مقررہ وقت پر قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں سود لاگو ہونے کی شرط لگائی جاتی ہے اور کارڈ ہولڈر ان شرائط کو قبول کرکے اس معاہدہ پر دستخط کرتا ہے جو ایک غیر شرعی معاہدہ ہے اس لئے عام حالات میں بروقت ادائیگی کے ساتھ بھی کریڈٹ کارڈ کا حصول شرعاً درست نہیں ، جس سے احتراز ضروری ہے ، البتہ اگر کسی جگہ کریڈٹ کارڈ کے بغیر خریداری وغیرہ نا ہوسکتی ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں کریڈٹ کارڈ کا لینا اور اس کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہوگا کہ مقررہ وقت کے اندر ہی قرض کی ادائیگی کا پورا اہتمام کیا جائے ، تاکہ عملاً سودی رقم دینا نہ پڑے ۔
كما في الدر المختار : وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن ( فصل في القرض، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
و في رد المحتار : تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (إلى قوله) وتعقبه الحموي بأن ما كان ربا لا يظهر فيه فرق بين الديانة والقضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح ( مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
وفی فقہ البیوع : وقد يقع دفع الثمن عن طريق بطاقة الائتمان (Credit Card) وخلاصة هذه العملية أن بعض البنوك تصدر هذه البطاقات وتعطيها لعملائها لقاء رسوم محددة. و للبنوك تعاقد مع التجار بأن حامل هذه البطاقة حينما يشترى منهم بضاعة أو خدمة متقومة، فإنه بدلاً من دفع قيمتها أو أجرتها نقداً، يريهم هذه البطاقة، والتاجر بعد التأكد من صحتها، يحصل على توقيع من المشترى على فاتورة البيع أو الإجارة. وبذلك تنتهى مسئولية حامل البطاقة. ثمّ البنك مُصدِرُ البطاقة قد يسحب مبلغ الثمن من حساب المشترى لديه، ويُحوّله إلى حساب البائع، وقد يدفع الثمن إلى التاجر بنفسه بعد حسم عمولته، ويحصل على ذلك الثمن من المشتري حامل البطاقة في مدة معلومة، فإن لم يؤد المشترى ذلك الثّمن فى مدة محددة ، فإن مصدر البطاقة يتقاضى عليها فائدة ربوية ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المراد من "بطاقة الإئتمان" فى الاصطلاح المصرفي بطاقة يتيح لحاملها فرصة أن يشتري بها بضائع، وأن يؤدي مُصدر البطاقة ثمنها إلى التاجر، ثم إنه يُعطى حامل البطاقة أجلاً لدفع ذلك الثمن مع فائدة ربوية. وإن العملية في هذه البطاقة عملية ربوية بحتة لا تجوز، ولا يحتاج بيان حكمها إلى تفصيل آخر (ج1 ص: 453/452 ط: مکتبۃ معارف القرآن)
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم
یونیکوڈ کریڈٹ کارڈ 0