کیا فرماتے ہیں علما کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت گزشتہ سال سے شوگر کی مریض ہے اور گزشتہ سال سے اس کا علاج ہو رہا ہے پچھلے رمضان میں بھی علاج کی وجہ سے ڈاکٹروں نے روزے رکھنے سے منع کیا تھا اور اب بھی علاج ہو رہا ہے ممکن ہے کہ اس رمضان تک کچھ افاقہ ہو جائے لیکن ابھی روزے رکھنے کی ہمت نہیں ہے کہ روزے رکھ سکے۔ اب پوچھنا یہ ہے یہ عورت گزشتہ سال کے روزوں کا فدیہ ادا کر دے یا اس کے ذمہ روزوں کی قضا کرنا ہی ضروری ہے ؟
۲: ایک عورت نے حالت حمل میں یہ نذر مانی کے اگراس دفعہ میرا بیٹا پیدا ہوا تو میں ایک ماہ کے روزے رکھوں گی ۔ لیکن اب وہ روزے نہیں رکھنا چاہتی تو اس کا کیا حکم ہے کہ وہ فدیہ ادا کر دے یا روزہ رکھنا ہی ضروری ہے؟
اگر یہ عورت سال کے چھوٹے اور ٹھنڈے دنوں میں روزہ رکھنے پر قادر ہو یا اس بیماری سے صحت یاب ہونے کی اُمید ہو تو اس پر چھوٹے ہوئے روزوں کی بقدر روزے رکھنا لازم ہے، ورنہ ان چھوٹے ہوئے روزوں کا فدیہ بھی ادا کر سکتی ہے ۔
۲:مذکور عورت جب روزے رکھنے پر قادر ہے تو فدیہ دینے کی بجائے اپنی نذر کے موافق روزے رکھنا ہی واجب ہے۔
لقوله تعالى {أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ } [البقرة: 184]
لقوله تعالى : {وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ } [الحج: 29] واللہ اعلم بالصواب