السلام علیکم!
مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آج کل بال سیدھے کرنے کی مختلف ٹریٹمنٹس، جیسے کیرا بونڈ، ایکسٹینسو اور نینو پلاسٹیا وغیرہ، کروانا جائز ہے یا نہیں؟ ان ٹریٹمنٹس میں مختلف قسم کی بال سیدھے کرنے کی کریم لگائی جاتی ییں اور کافی دیر تک سٹریٹنر(straightner) سے تپش دے کر سیدھے کیے جاتے ہیں ۔ تین دن تک نہانے کی بھی منع ہوتی ہے اور زیادہ پسینہ بھی نا آئے ۔اگر کریم کے اجزاء حلال بھی ہو لیکن سٹریٹنر سے کریم کو سیل کیا جاتا ہے تو کیا اس سےبالوں میں کوئ اضافی تہہ دار جرم بن جاتا ہے جو پانی کو بہنے سے روکتا ہو؟ کیا اس کریٹن یہ اکسٹینسو ٹریٹمنٹ کے بعد غسل اور وضو درست ہو جاتا ہے؟ اور شوہر بار بار اسے کروانے پر زور ڈال رہا ہو اور نہیں کروانے پر ناراض ہوجائے اور لڑائ ہوجائے تو کیا اسے کروانا جایز ہے؟ برائے کرم اس سوال کا جلدی جواب دیں۔ جزاك اللهُ خيرًا!
صورت مسئولہ میں بالوں کو سیدھا کرنے کے لیے سوال میں ذکر کردہ طریقۂ کار کے مطابق اگر کوئی خاتون ایامِ ناپاکی میں یہ عمل اختیار کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اسے اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ البتہ پاکی کے ایام میں چونکہ روزانہ وضو میں بالوں کا مسح کرنا، ضرورت پڑنے پر غسلِ جنابت میں نہانا اور بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا شرعاً ضروری ہے اس لیے ایامِ طہارت میں مذکور عمل سے اجتناب لازم ہے۔ چنانچہ اگر شوہر کی طرف سے مذکور ٹریٹمنٹ پر اصرار ہو تو بیوی کو چاہیے کہ ایامِ ناپاکی میں یہ عمل کرلیا کرے، تاکہ بیوی کی نماز اور دیگر عبادات میں خلل بھی واقع نہ ہو اور شوہر کے ساتھ ناراضی کی نوبت بھی پیش نہ آئے۔
كما في صحيح البخاري: "أن امرأة من الأنصار زوجت ابنتها فتمعط شعر رأسها، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له فقالت: إن زوجها امرني ان اصل في شعرها، فقال: لا؛ إنه قد لعن الموصلات". (كتاب النكاح، باب لا تطيع المرأة زوجها في معصية،ج:٣، ص: ٢٣٧٠، طبع: مكتبة البشرى)
وفي صحيح البخاري عن علي بن أبي طالب: "الطاعة في المعروف". (كتاب المغازي، باب سرية عبدالله بن حذافة، ج: ۳، ص: ۱۹٠۱، مكتبة البشرى)
وفي الدر المختار: "ولا يمنع الطهارة ونيم أي خرؤ ذناب لم يصل الماء تحته وحناء ولو جرمه وبه يفتي ودرن الخ" (كتاب الطهارة، فصل في ابحاث الغسل، ج: ۱، ص: ١٥٤، طبع: ايچ إيم سعيد)
وفي الدر المختار: "وصاحب العذر من به سلس البول لا يمكن امساكه الى قوله ... بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلى فيه خاليا عن الحدث ولو حكما لأن الا انقطاع اليسير ملحق بالعدم وهذا شرط العذر في حق الابتداء وفي حق البقاء کفی وجدودہ في جزء الوقت ولو مرة وفی حق الزوال يشترط استيعاب الانقطاع تمام الوقت حقیقۃ لأنہ الانقطاع الكاملالخ(كتاب الطهارة، ج: ۱، ص: ٣٠٥، مكتبة مصطفى البابي الحلبي)
وفي تبيين الحقائق: "إن اصحاب الاعذار كمن به سلس البول والمستحاضة يصلون مع الحدث حقيقة لكن جعل الحدث الموجود حقيقة كالمعدوم حكما في حقهم للحاجة الى الاداء الخ" (كتاب الطهارة، فصل في الاستحاضة، ج: ۱، ص: ١٤٠، المطبعة الكبرى)
وفي بدائع الصنائع: "واما اصحاب الاعذار وصاحب الجرح السائل والمبطون ومن به سلس البول ... ونحو ذلك لايمضي عليه وقت الصلاة الا و يوجد ما ابتلى به من الحدث فيه فخروج النجس من هؤلاء لا يكون حدثا في الحال ما دام وقت الصلاة قائما حتي ان المستحاضة لو توضأت في اول الوقت فلها أن تصلى ما شاءت من الفرائض والنوافل مالم يخرج الوقت وان دام السيلان" الخ (كتاب الطهارة، ج: ۱، ص: ۲۸، مطبعة شركة المطبوعات العلمية بمصر)
وفي الشاميه تحت قوله: "وصرح في المنية عن الذخيره في مسئلة الحناء والطين والدون معللا بالضرورة، قال في شرحها ولأن الماء ينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن"الخ (كتاب الطهارة، فصل في ابحاث الغسل، ج: ۱، ص: ١٥٤، طبع: ايچ إيم سعيد)
وفي البحر الرئق: "كذا جلد السمك والوسخ ولا يمنع الدرن والتراب والطين في الظفر لأن الماء ينفذ فيه (إلى قوله) لو بقي علي جلده خرء برغوث او نيم أي أو ذرته لم يصل الماء تحته جازت طهارته الخ (كتاب الطهارة، ج: ۱، ص: ٤٧، مكتبة رشيديه)