محترم جناب مفتی صاحب! کیا فرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارہ میں کہ کیا شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کر سکتا ہے محرم الحرام میں ،خصوصا یوم عاشورہ میں؟ رمضان کے روزہ کے دوران اور عورت کے خاص ایام کے دوران کے علاوہ بھی عورت کے پاس جانے پر پابندی کے متعلق راہ نمائی فرمائیں۔ مسئلہ اردو تحریر میں نمبر کے ساتھ میل کریں، تاکہ عام فہم کے لوگ بھی باآسانی پڑھ سکیں ۔ شکریہ!
ایام حیض و نفاس اور روزہ کی حالت اور حالت احرام و اعتکاف میں نیز جس بیماری میں عورت کو ہمبستری سے ایذاء لاحق ہوتی ہو ہمبستری جائز نہیں۔ اس کے علاوہ دیگر تمام احوال میں جائز ہے ۔ اور اس سلسلہ میں جو حکم دیگر مہینوں کا ہے وہی محرم الحرام کا بھی ہے کہ اگر روزہ یا دوسرا کوئی مانع شرعی نہ ہو تو دن میں ورنہ رات میں مباشرت کر سکتے ہیں۔
قال تعالى : {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ } [البقرة: 222]
وقال تعالى: {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ } [البقرة: 187]
وقال تعالى : {فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ } [البقرة: 197] والله اعلم بالصواب