کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں تقریبا 30 سال سے الرجی کی مریض ہوں، گرد آلود، ٹھنڈی ہوا دھواں گھر کے کام میں اڑنے والی مٹی، غرض کافی چیزیں ایسی جس کی وجہ سے سانس لینے میں کم یا شدید تکلیف رہتی ہیں، میں 24 گھنٹے میں 4/3/2 دفعہ یا تکلیف زیادہ ہو تو ہر گھنٹے بعد ناک میں اسپرے کرتی ہوں روزے کی حالت میں جب کسی صورت سانس نہیں آتا تو ناک میں کم اور ہلکے سے اسپرے پیش کرتی ہوں، جس سے دوا کا ذائقہ حلق میں نہیں جاتا اور اس دوا کے ذائقے کا حلق میں نہ جانا میں نے دو تین معتبر جگہوں سے معلوم کیا ہے اور یہ مسئلہ سال کی 365 دن رہتا ہے، اور جب سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے تو میں نماز میں رکوع، سجدہ نہیں کر سکتی، اور نہ تلاوت کر پاتی، نہ لیٹ سکتی ہوں، میں کسی قسم کا ماسک بھی نہیں لگا سکتی، تو کیا اس طرح اسپرے کرنے سے میرا روزہ ٹوٹ جاتا ہے جبکہ حلق میں دوا کا ذائقہ نہیں جاتا، ہر سال رمضان المبارک کی آمد پر میں یہ مسئلہ لے کر پریشان ہوتی ہوں، بر آئے مہربانی راہ نمائی فرمائیں۔
مذکور اسپرے میں موجود ووا کے ذرات اگر حلق میں چلے جاتے ہوں اگر چہ اس کا ذائقہ محسوس نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں مذکور اسپرے سے روزہ فاسد ہو جائیگا اور ایسی صورت میں اگر روزہ کی حالت میں اسپرے نہ کرنے سے سائلہ کو نا قابل برداشت تکلیف در پیش ہوتی ہو تو اس کے لیے روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہو گی اور مذکور بیماری سے صحت یابی کے بعد فوت شدہ روزوں کی قضا لازم ہوگی، البتہ اگر صحت یابی کی بالکل امید نہ رہے تو ایسی صورت میں ان روزوں کا فدیہ دینا لازم ہو گا۔
ففي الدر المختار: (أو دخل حلقه غبار أو ذباب أو دخان) ولو ذاكرا استحسانا لعدم إمكان التحرز عنه، ومفاده أنه لو أدخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عودا أو عنبرا له ذاكرا لإمكان التحرز عنه فليتنبه له كما بسطه الشرنبلالي. (2/ 395)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: أنه لو أدخل حلقه الدخان) أي بأي صورة كان الإدخال، حتى لو تبخر ببخور وآواه إلى نفسه واشتمه ذاكرا لصومه أفطر لإمكان التحرز عنه وهذا مما يغفل عنه كثير من الناس، ولا يتوهم أنه كشم الورد ومائه والمسك لوضوح الفرق بين هواء تطيب بريح المسك وشبهه وبين جوهر دخان وصل إلى جوفه بفعله إمداد اھ (2/ 395) والله اعلم بالصواب
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0