محترم جناب مفتی صاحب دار العلوم بنوریہ سائٹ کراچی
السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں علما ء دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ الحمدللہ گزشتہ کئی سالوں سے اللہ پاک کے فضل وکرم سے ہر سال میں رجب المرجب شعبان المعظم اور رمضان شریف کے علاوہ شوال المکرم کے چھ روزے مستقل رکھتا چلا آرہا ہوں۔ گزشتہ دنوں انگلش اخبار (The News) میں ایک آرٹیکل لکھا ہوا آیا کہ رجب اور شعبان کے روزوں کی کوئی شرعی حیثیت نہیں اور معاذ اللہ ر جب اور شعبان کے روزے رکھنا بدعت ہے اور ہمارے حضور ﷺ سے کہیں ثابت نہیں اُس کے علاوہ اور بہت سی خرافات لکھی ہوئی تھی۔
لہذا آپ سے گزارش ہے کہ برائے کرم اس سلسلے میں آپ ہماری شرعی راہ نمائی فرمائیں اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ارشادفرما ئیں کہ رجب المرجب شعبان المعظم کے نفلی روزوں کے مطلق شریعت میں کیا حکم ہے؟
رجب و شعبان کے پورے دو مہینوں کا روزہ رکھنا شرعاً جائز اور درست ہے، بشرطیکہ ان دو مہینوں کے روزوں کو ضروری اور واجب نہ سمجھا جاتا ہو ،اور ان روزوں کی وجہ سے فرض روزے (رمضان المبارک) میں کمزوری یا نقصان بھی نہ ہوتا ہو ،اور اگر اس سے محض نفلی روزہ رکھ کر ثواب حاصل کرنا مقصود ہو تو یہ بلا شبہ جائز اور شرعا درست ہے مگر یوم الشک یعنی انتیس یا تیس ۳۰ شعبان کا کا روزہ عام عوام کو رکھنے سے احتراز چاہیے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): إذا أفطر في الأيام المنهية المختار أنه لا بأس به ( الى قوله) ورد عليه أبو يوسف فقال: وليس هذا عندي كما قال هذا قد صام الدهر كأنه أشار إلى أن النهي عن صوم الدهر ليس لصوم هذه الأيام بل لما يضعفه عن الفرائض والواجبات والكسب الذي لا بد له منه. اهـ. (2/ 376)
و في الدر المختار: (ولا يصام يوم الشك) هو يوم الثلاثين من شعبان اھ (2/ 381) واللہ اعلم بالصواب