کیا فرتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ پر کفارہ روزہ ہے، وہ بجائے ساٹھ مسکین کے ایک طالب علم یتیم کو ساٹھ دن کھانا کھلائے؟ نیز اگر کفارے کی یہ رقم مدرسہ کی مطعم میں جمع کر دیا جائے تو کیا کفارہ ادا ہو جائےگا؟
نوٹ: جن کا یہ مسئلہ ہے وہ تندرست اور جوان ہے، اس نے گزشتہ رمضان میں قصدا کھانا کھا کر روزہ توڑ دیا تھا، اس کے متعلق حکم معلوم کرنا ہے کہ اب ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟
جس نے رمضان المبارک کے روزے کو بغیر کسی عذر کے کھا پی کر توڑ دیا ہو ،اس کے لیے حکم یہ ہےکہ وہ بطور کفارہ کے دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے اورایک روزے کی قضاء بھی رکھے اور جان کر روزہ افطار کرنے سے جو گناہ ہوا ہے اس پر ندامت کے ساتھ بصدق دل توبہ واستغفار بھی کرے اور آئندہ اس طرح کے عمل سے مکمل احتراز بھی کرے ۔ اور اگر دو ماہ مسلسل روزہ رکھنے کی استطاعت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صبح و شام پیٹ بھر کر کھانا کھلائے اوراگر ایک طالبعلم کو ساٹھ یوم تک کھلائے تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے ۔
جبکہ مطبخ یا ادارہ کے فنڈ میں جمع کراتے وقت اس کی صراحت ضروری ہے کہ یہ کفارہ کی رقم ہے ،اس کے شرعی ضابطے کے مطابق خرچ کی جائے۔
کما قال الله تعالى : {فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا } [المجادلة: 4] ۔
وفى الفتاوى الهندية: ولو أطعم مسكينا واحدا ستين يوما كل يوم أكلتين مشبعتين جاز ولو أطعم مائة وعشرين مسكينا دفعة واحدة فعليه أن يطعم أحد الفريقين أكلة مشبعة أخرى كذا في السراج الوهاج اھ (1/ 514) والله تعالى أعلم بالصواب
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0