مفتی صاحب! قسم کے کفارے کے روز ے اگر ایک شخص دوسرے سے کہے کہ میرے قسم کے کفارے کے روزے آپ رکھ لے ۔ تو کیا دوسرا شخص پہلے والے شخص کی جگہ روزے رکھ سکتا ہے؟ محترم مفتیان کرام اس مسئلہ کا آپ سے تفصیلاً فتوی چاہتے ہیں۔ مہربانی و السلام !
واضح ہو کہ روزہ عبادات بدنیہ میں سے ہے ،اور عبادات بدنیہ میں نیابت جائز نہیں، یہی وجہ ہے کہ ایسی عبادات کی ادائیگی سے عجز کی صورت میں کفارے اور فدیہ کا حکم دیا گیا ہے، لہذا شخص مذکور اگر خود اپنی قسم کے کفارہ میں روزے نہ رکھ سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ کسی دوسرے سے روزے رکھوانے کی بجائے اس کا کفارہ ادا کر دے اور وہ دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا یا انہیں صبح و شام پیٹ بھر کر کھانا کھلانا ہے۔
كما قال الله تعالى في كتابه : {لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ } [المائدة: 89]
و في الدر المختار: (العبادة المالية) كزكاة وكفارة (تقبل النيابة) عن المكلف (مطلقا) عند القدرة والعجز (إلی قوله) (والبدنية) كصلاة وصوم (لا) تقبلها (مطلقا) اھ (2/ 597)
و في الدر المختار: (قوله وصوم) معنى كونه بدنيا أن فيه ترك أعمال البدن نهر عن الحواشي السعدية، والأولى أن يقال: إن الصوم إمساك عن المفطرات: أي منع النفس عن تناولها، والمنع من أعمال البدن اھ (2/ 598) واللہ اعلم بالصواب