میرا نام محمد ایوب ہے اور عمر تقریبا 42 سال ہے ، جوانی میں غفلت، جہالت اور دین سے دوری کے سبب میرے بہت سے روزے چھوٹ گئے ۔ صحیح تعداد تو یاد نہیں۔ البتہ انداز تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
۱: سفر یا مرض کی وجہ سے چھوڑے گئے روزوں کی تعداد تقریباً 35 ہے۔
۲: بغیر کسی شرعی عذر کے چھوڑے گئے روزوں کی تعداد تقریبا ۱۶۰ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہر چھوڑے ے گئے روزے کے بدلے کتنے روزے رکھنے پڑینگے یا کتنا فدیہ دینا ہوگا؟
(۲) فدیہ کی رقم کسی ہسپتال یا ٹرسٹ کو دی جا سکتی ہے؟
(۱، ۲): سوال میں مذکور روزوں سے مراد اگر فقط وہ روزے ہوں جو حالت سفر یا حضر میں کسی عذر شرعی یا بغیر عذر کے چھوٹ گئے تھے اور نہیں رکھے جاسکے تو ان کا حکم یہ ہے کہ ان کی قضاء کے طور پر اتنے ایام کے روزے رکھنا لازم ہے، نہ کہ فدیہ۔ البتہ اگر ایسی بیماری لاحق ہو گئی ہو کہ اس سے آخر دم تک صحت پانے کی امید بالکل ختم ہو گئی ہو اور اس میں روزہ رکھنا بھی ممکن نہ ہو تو اس صورت میں فدیہ دینے کی گنجائش ہے، اگر مرتے دم تک نہ دے سکا تو بوقت انتقال قضاء شدہ روزوں کے فدیہ دے دینے کی وصیت لازم ہوگی ۔
اور فدیہ یہ ہے کہ ہر روزے کے عوض پونے دو سیر جبکہ احتیاطاً پورے دو سیر گندم یا اس کی قیمت کسی واقعی مستحق کو دینا ضروری ہے ۔ اب اگر کسی ادارہ میں ایسی رقوم مستحقین پر خرچ کرنے کا اہتمام ہو تو ایسی رقم ایسے ادارہ میں بھی جمع کرواکر اس کے ذریعہ مستحقین تک پہنچوا سکتے ہیں۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته: يجب باتفاق الفقهاء القضاء على من أفطر يوماً أو أكثر من رمضان، بعذر كالمرض والسفر والحيض ونحوه، أو بغير عذر كترك النية عمداً أو سهواً (2) ، لقوله تعالى: { فمن كان منكم مريضاً أو على سفر فعدة من أيام أخر} [البقرة:184/2-185] اھ (3/ 107)
و في الفقه الإسلامي وأدلته: العجز عن الصيام، فتجب باتفاق الفقهاء على من لا يقدر على الصوم بحال، وهو الشيخ الكبير والعجوز (إلى قوله) وتجب الفدية أيضاً بالاتفاق على المريض الذي لا يرجى برؤه، لعدم وجوب الصوم عليه، كما تقدم، لقوله عز وجل: {وما جعل عليكم في الدين من حرج} [الحج:78/22]. (3/ 117) واللہ اعلم بالصواب
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0