کیا عید وغیرہ کے لئے کھلی آنکھ ( صرف آنکھ سےچاند کا دیکھنا ضروری ہے؟ یا جدید تکنیکی حساب کتاب چاند کی موجودگی کو ثابت کرنے کے لیے استعمال ہوسکتی ہے ؟ مثلا اگر موسم بادلوں والا ہے تو کیا اس وقت جدید فلکیات کے حساب، کتاب کے ذریعہ چاند کی موجودگی ظاہر کی جا سکتی ہے؟ یا صرف آنکھ سے دیکھنا ہی ضروری ہے؟ قرآن وحدیث کے حوالے سے یا مشہور عالم کا فتویٰ حوالے کے طور پر دیں۔
شریعت مطہرہ نے رمضان المبارک اور ماہ عید ہونے کا مدار رؤیت ہلال کو قرار دیا ہے، نہ کہ حسابات وغیرہ کو ، اس لیے عید یا رمضان کے چاند کا ثبوت صرف فلکی حسابات سے کرنا درست نہیں اور شرعی اعتبار سے اس پر حکم بھی مرتب نہیں ہوتا، لہٰذا ان حسابات وغیرہ کے ساتھ رؤیت کا بھی اہتمام لازم ہے۔