میرا سوال روزے کے متعلق ہے ،میں دمے کے مرض میں مبتلا ہوں، اور اس کی وجہ سے مجھے کئی چیزوں سے الرجی ہے جیسے آلودگی بخصوص قسم کے پودے وغیرہ جن سے عام حالات میں پرہیز ناممکن ہے، کئی دفع روزے کے حالت میں تکلیف ہو جاتی ہے، جس وجہ سے سانس اکھڑتا ہے اور سخت کھانسی کے ساتھ سینے میں گھٹن ہوتی ہے ، ایسی حالت میں مجھے انہلر لینا پڑھتا ہے، جس سے ۔۔۔۔ پھپھڑوں میں جاتے ہیں اور تکلیف ختم ہو جاتی ہے، اگر میں یہ انہلر نہ لوں تو سانس بالکل اکھڑنے لگتا ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ آیا ایسی حالت میں انہلر لینا جائز ہے کہ نہیں؟ اور اس کے لینے سے روزہ ہو جاتا ہے؟ اگر نہیں ہوتا تو ان کی قضا کیا ہے؟ (کئی دفع میں نے قضا میں روزے بھی رکھے،مگر ان میں بھی تکلیف ہو گئی)۔ اگر روزہ نہیں ہوتا تو اس کا گناہ ملے گا ؟ ایسی بیماری کی حالت میں روزہ رکھنا جائز ہے کہ نہیں؟
انہلر کے ذریعہ گیس لینے میں دوا کے ذرات بھی شامل ہوتے ہیں، جس کی بناء پر اس کا استعمال مفسد صوم ہے جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر سانس کی تکلیف اس قدر شدید ہو کہ اس کے استعمال کے بغیر چارہ نہ ہو اور بیرونی استعمال کی کوئی دوسری دوا بھی اس کے متبادل کے طور پر نہ ہو تو ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ روزے ترک کر دے اور پھر صحت بحال ہونے پر ان روزوں کی قضاء کرلے اور اگر بعد میں بھی یہی پریشانی ہو تو پھر فدیہ دینے کی بھی گنجائش ہے۔
ففي الدر المختار: (فإن عجز عن الصوم) لمرض لا يرجى برؤه أو كبر (أطعم) أي ملك (ستين مسكينا) اھ (3/ 478) واللہ اعلم بالصواب