کیا فرماتے ہیں مفتیان دین اور علمائے کرام شریعت کی رو سے ایک شخص عمرہ کے ارادہ سے جاتا ہے، اور واپسی رمضان المبارک میں ہوتی ہے (چونکہ سعودی عرب میں پاکستان سے ایک دن پہلے عموما چاند نظر آجاتا ہے لہذا روزوں میں بھی ایک دن کا فرق آئے گا ) صورت مسئولہ میں بالفرض پاکستان میں ۳۰ کا چاند نظر آجاتا ہے، تو اس طرح ۳۱ روزے ہو جاتے ہیں؟ کیا یہ شخص ۳۱ واں روزہ رکھےگا؟ اسی طرح ایک شخص اعتکاف کی نیت سے رمضان المبارک میں حرمین ( مکہ یا مدینہ) جاتا ہے،اور عید الفطر کے دن فلائٹ سعودی عرب سے پاکستان پہنچتی ہے، جبکہ پاکستان میں اس دن آخری روزہ ہے ، تو اس حال میں قضا روزو کی کیا صورت ہوگی؟ جزاک اللہ خیرا!
1، ۲: روزہ رکھنے یا افطار کرنے کے بارے میں اصل اعتبار موجودہ مقام کا ہوتا ہے۔ لہذا شخص مذکور جب پاکستان آجائے اور یہاں تیسواں روزہ ہو تو ایسی صورت میں اس شخص پر بھی یہ روزہ لازم ہوگا ۔ البتہ مذکور دوسری صورت میں یہ شخص اگر وہاں سے افطار کے بعد پاکستان پہنچے تو اس صورت میں اس پر اس روزہ کی قضاء لازم نہیں ہوگی مگر بقیہ دن دیگر روزہ داروں کی طرح رہنا اس پر لازم ہے ۔
کما فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله من رأى هلال رمضان أو الفطر ورد قوله صام فإن أفطر قضى فقط) لقوله تعالى في هلال رمضان {فمن شهد منكم الشهر فليصمه} [البقرة: 185] ، وهذا قد شهده والحديث في هلال الفطر «صومكم يوم تصومون وفطركم يوم تفطرون» والناس لم يفطروا في هذا اليوم فوجب عليه موافقتهم اھ (2/ 286)
و في السراجية : اهل بلدة صاموا للروية بثلثين يوما واهل بلدة اخرى تسعة وعشرين الرؤية فعلى هولاء قضاء يوم الا اذا كان بين البلدتين بتائن بحيث تختلف المطالع اھ (ص: ۳۱)