السلام علیکم !مفتی صاحب! عمرہ کے حوالے سے دو شرعی سوالات میں رہنمائی درکار ہے۔
میں اپنی فیملی کے ساتھ عمرہ کا ارادہ رکھتا ہوں، جس میں میری اہلیہ، میرے چار بچے، میری ساس (مدر اِن لا) اور میری دو سالیاں شامل ہیں۔ میری ساس اور سسر میں علیحدگی نہیں ہوئی، تاہم وہ فی الوقت الگ الگ رہائش پذیر ہیں۔ میری سالیوں کا ایک بھائی بھی بیرونِ ملک رہتا ہے، جس کے لیے فی الحال پاکستان آنا اور ہمارے ساتھ عمرہ پر جانا مشکل ہے۔میری اہلیہ، بچوں اور ساس کا میرے ساتھ سفر کرنا ممکن ہے، لیکن میری دونوں سالیوں کے لیے فی الوقت کوئی دوسرا شرعی محرم دستیاب نہیں ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
1. کیا میں اپنی دونوں سالیوں کو بھی اپنے ساتھ عمرہ پر لے جا سکتا ہوں، جبکہ میں ان کا شرعی محرم نہیں ہوں؟
2. موجودہ حالات میں، جب ان کے لیے کوئی دوسرا محرم دستیاب نہیں اور بھائی کا پاکستان آنا بھی مشکل ہے، تو کیا ہماری فیملی کے ساتھ ان کے سفر اور عمرہ ادا کرنے کی کوئی شرعی گنجائش یا متبادل صورت موجود ہے؟
براہِ کرم ہماری صورتحال کے مطابق راہ نمائی فرما دیں کہ ہمیں کیا طریقۂ کار اختیار کرنا چاہیے۔ جزاکم اللہ خیراً۔مفتی صاحب! ۳ بچیاں (۹، ۳ سال اور ۹ ماہ) اور ایک بچہ (سات سال) ۔جزاك الله خير !
واضح ہو کہ عورت کے لئے بغیر محرم کے مسافتِ شرعیہ(سوا ستتر کلو میٹر) کے بقدر سفر کرنا درست نہیں ،لہذا صورت مسئولہ میں سائل اپنی ساس یعنی اپنی بیوی کی والدہ کے لیے چونکہ محرم ہے ،اس لیے ساس کے لیے بیٹی اور داماد کے ساتھ عمرے کی ادائیگی کے لیے جانا تو درست ہے ، البتہ سالیوں کے حق میں چونکہ سائل محرم نہیں ، اس لیے سالیوں کو سائل کے ساتھ عمرے کا سفر کرنا درست نہ ہوگا ، لیکن سالیاں اگر اس کے باوجود اس کے ساتھ جاکر عمرہ ادا کرلیتی ہیں ، تو ان کا عمرہ تو ادا ہوجائے گا ، مگر بغیر محرم سفر کرنے کا گناہ ہوگا، اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔
كما في صحيح البخاري : عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم الخ (باب حج النساء، ج 3، ص 19، رقم : 1862، ط : السلطانية)-
وفي البحر الرائق : والمحرم من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد بقرابة، أو رضاع، أو مصاهرة الخ (كتاب الحج ، ج 2 ، ص 339، ط : دار الكتاب الإسلامي)-
و في الفتاوى الهندية : (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط الخ (کتاب الحج،الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأركانه، ج 1، ص 218، ط : دار الفكر، بيروت)-
وفي بدائع الصنائع : ولأنها إذا لم يكن معها زوج، ولا محرم لا يؤمن عليها إذ النساء لحم على وضم إلا ما ذب عنه، ولهذا لا يجوز لها الخروج وحدها. والخوف عند اجتماعهن أكثر، ولهذا حرمت الخلوة بالأجنبية، وإن كان معها امرأة أخرى، والآية لا تتناول النساء حال عدم الزوج، والمحرم معها؛ لأن المرأة لا تقدر على الركوب، والنزول بنفسها فتحتاج إلى من يركبها، وينزلها، ولا يجوز ذلك لغير الزوج، والمحرم الخ (فصل شرائط فرضية الحج، ج 2، ص 123، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-