خلع

عدالتی تنسیخ نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
99169
| تاریخ :
2026-09-08
معاملات / احکام طلاق / خلع

عدالتی تنسیخ نکاح کا حکم

السلام علیکم!کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں(مسماۃ سُمیرا زمان )نے کورٹ سے خلع کی ڈگری لی ہے،جسےفسخ نکاح کہا جاتا ہے، اور اس ڈگری کو لیتے ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے، یونین کونسل میں بھی اندارج کروادیا ہے، چونکہ یہ خلع کی ڈگر عدالت کی طرف سے یکطرفہ فیصلے کی طور پر مجھے جاری کی گئی ہے اس وجہ سے مجھے اس بارے میں آپ سے تحریری طور پر راہنمائی درکار ہے، تاکہ مجھے یہ اطمنان ہوجائے کہ جو ڈگری مجھے عدالت کی طرف سے ملی ہے وہ مکمل خلع کو ثابت کرتی ہے کہ نہیں؟
مزید یہ کہ میرا شوہر عدالت کے بھیجے گئے سمن کے جواب میں حاضر نہیں ہوا اس لیے عدالت نے مجھے یکطرفہ فیصلہ دیدیا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال اور اس کے ساتھ منسلکہ عدالتی فیصلے کا مطالعہ کیا گیا ،جس کا حاصل یہ ہے کہ بیوی مدعیہ مسماۃ سمیرازمان ولد خیبر زمان نےعدالت میں اپنا دعوی داخل کیا،جس میں اس نے مدعی علیہ شوہر مسمٰی حسرت علی ولد رحمت علی پر کچھ الزامات عائد کیے ہیں،جن میں شوہر کا بیوی پر تشدد کرنا،نان نفقہ نہ دینا ،بری طرح مارنا ،گھرسے نکالنا،مارنا وغیرہ وغیرہ، شامل ہےاور مدعیہ مسماۃ سمیرا زمان کا کہنا ہے کہ ان حالات کی وجہ سے اس کے دل میں مدعیٰ علیہ شوہر کےلیے نفرت پیدا ہوگئی ہے،اور اس کےلیے مدعٰی علیہ شوہر کے ساتھ رہنا ممکن نہیں،لہذا عدالت اس کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کرے۔
اس کے بعدعدالت نے شوہر مسمٰی حسرت علی ولد رحمت علی کو عدالت میں حاضر ہونے کےلیےبار بار سمن اور نوٹس جاری کیئے اور اخبارات میں بھی شائع کیئے،لیکن اس کے باوجودشوہر عدالت حاضر نہیں ہوا اور اپنا دفاع نہیں کیا،چنانچہ اگر شوہر کو اس کی اطلاع ہوئی تھی اور اس کو پتہ تھا کہ میرے خلاف عدالت میں کیس چل رہا ہے اور عدالت مجھے طلب کررہی ہے،لیکن اس کے باوجود وہ جان بوجھ کر عدالت حاضر نہیں ہوا تو یہ شوہر کی طرف سے ’’نکول ‘‘یعنی قسم سے انکار ہے،لہذا اب یہ سمجھا جائے گا کہ مذکورہ صورت میں نان و نفقہ نہ دینے اور مارنے وغیرہ کی وجہ سے مدعی علیہ شوہر مسمیٰ حسرت علی ولد رحمت علی قصوروار ہے،اور مدعیہ بیوی سمیرا زمان کے پاس شرعی گواہ نہ ہونے یا پیش نہ کرنے کی بنیاد پر شوہر کو قسم کےلیے بلایا گیا،لیکن وہ عدالت حاضر نہیں ہوا اور اپنا دفاع نہیں کیا،اس کے بعد عدالت نے بیوی سمیرا زمان کے حلفیہ بیان کو بنیاد بناکر نکاح کو ختم کردیا۔
اس فیصلے میں گو عدالت نے مار پیٹ اور نان نفقہ نہ دینے کو صراحۃ ًفسخِ نکاح کی بنیاد نہیں بنایا ہے بلکہ مذکورہ فیصلہ یکطرفہ خلع کی بنیاد پر جاری کیا،اور شوہر کی رضامندی کے بغیر اگرچہ یکطرفہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہے،تاہم چونکہ اس فیصلہ میں فسخِ نکاح کی بنیاد (یعنی شوہر کا نان نفقہ نہ دینا اور مارنا وغیرہ )فی الجملہ موجود ہے،اور شوہر بھی عدالت کے بلانے اور سمن جاری کرنے کے باوجود عدالت حاضر نہیں ہوا جو اس کی طرف سے قسم سے نکول بھی ہے،لہذامذکورہ نکول کی بنیادپر مذکورفیصلہ شرعاًبھی درست سمجھا جائے گا،اس لیے سمیرا زمان کا نکاح اس کے شوہر حسرت علی ولد رحمت علی سے ختم ہوگیا ہے،جبکہ اس فیصلہ کو جاری ہوئے تقریباً دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے اس لیے تین ماہواریاں مکمل ہونے کے ساتھ سائلہ کی عدت بھی گزر چکی ہے اوراب وہ دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الحاوي الكبير: فإن قال المدعي ليست لي بينة فقد اختلف أصحابنا: هل يكون هذا الامتناع من الحضور كالنكول في رد اليمين على المدعي أم لا؟ على وجهين: أحدهما: أنه لا يجعل نكولا، لأن النكول بعد سماع الدعوى، وسؤاله عن الجواب، فيصيران شرطين في النكول، وهما مفقودان مع عدم الحضور. والوجه الثاني: وهو أشبه أن يجعل كالنكول بعد النداء على بابه بمبلغ الدعوى وإعلامه بأنه يحكم عليه بالنكول لوجود شرطي النكول في هذا النداء، فعلى هذا يسمع القاضي الدعوى محررة، ثم يعيد النداء على بابه ثانية بأنه يحكم عليه بالنكول. فإذا امتنع من الحضور بعد النداء الثاني، حكم بنكوله، ورد اليمين على المدعي، وحكم له بالدعوى إذا حلف. (استدعاء الخصم إن كان امرأة) اهـ (كتاب قاض إلى قاض، باب ما على القاضي في الخصوم والشهود، فصل: استدعاء الخصم، ج:16 ص:302 مط: دار الكتب العلمية بيروت)
وفي ضوء الشموع شرح المجموع: وإن منعها نفقة الحال) أما الماضية فينظر بها كالدين (فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق، أو طلق وإلا طلق عليه اهـ
وفي حاشيته تحت قوله: (وإلا طلق) أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم (قوله: تلوم له الخ) (إلى قوله) فإن تطوع بالنفقة أحد قريب، أو أجنبي، قال أبو القاسم بن الكاتب: لها أن تفارق؛ لأن الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبد الرحمن: لا مقال لها؛ لأن سبب الفراق وهو عدم النفقة قد انتفى، وهو الذي تقضيه (المدونة) كما قال ابن المناصف أنظر (الحطاب) [باب النفقات، ج:2 ص:540 مط: دار يوسف بن تاشفين]
وفي الحیلة الناجزة: وأما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرۃ انفق أو طلق، وإلا طلق علیہ، قال محشیہ: أی طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم الخ (ص: 150 مط: دار الإشاعت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 99169کی تصدیق کریں
0     23
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • خلع لینے کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   خلع 3
  • خلع کے بدلے پوراحق مہرمعاف ہوگا یا آدھا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   خلع 2
  • کورٹ کی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنے کے لئے رجوع کرنا

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی بنیاد پر عدت میں بیٹھنا

    یونیکوڈ   خلع 1
  • کورٹ سے تنسیخ نکاح کی ڈگری لینے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • کیا شوہر کے مارپیٹ کی وجہ سے بیوی خلع لے سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • مروجہ یکطرفہ عدالتی خلع کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • خلع کی صورت میں بیوی سے حق مہر اور دیگر گفٹ کردہ اشیاء واپس لینے کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • کیا خلع کے بعد عورت اپنے زیور اور حق مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد رجوع کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد دوبارہ شوہر کے پاس جانا

    یونیکوڈ   خلع 0
  • باہمی رضامندی سے ہونے والے" خلع"کی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • بیوی کا غلط الزامات لگا کر کورٹ سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 2
  • عدالتی خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے چھٹکارے کا طریقہ

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعدکیے گئے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • اگر شوہر نہ طلاق دے اور نہ گھر بسائے تو یکطرفہ خلع سے نکاح ختم ہوجائے گا ؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • خلع کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالتی خلع حاصل کرنا

    یونیکوڈ   خلع 2
  • ازدواجی حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے شوہر سے خلع لینا

    یونیکوڈ   خلع 0
Related Topics متعلقه موضوعات