میرا نام شائستہ ہے، میری شادی نہیں ہوئی، میرے والد اور بھائی وفات پاگئےہیں،میری عمر 38 سال ہے، میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہوں۔میرے بہنوئی عمرہ کرنے کیلئےجانا چاہتا ہےاور ساتھ میں میری والدہ کو عمرہ کروانےلے جانا چاہتاہے، مجھے میری والدہ نے ساتھ جانے کیلئےکہا ہےاور میرا بھی ارادہ ہےعمرہ کرنے کا ، الحمدللہ میں صاحب حیثیت ہوں،عمرہ کرسکتی ہوں، لیکن میرے بہنوئی نے منع کردیا ہے کہ وہ میرے لئےنامحرم ہےاور اس طرح عمرہ ادا نہیں ہوسکتا۔کیا اسلام میں اس صورت کو دیکھ کر کوئی حل نکل سکتاہے علم کی روشنی میں ۔مہربانی فرماکر مجھے اس مسئلے کا کوئی حل بتایاجائے۔
واضح ہوکہ عورت کے لیےبغیرمحرم سفر شرعی (48 میل یا اس سے زائد مسافت) کے بقد ر تنہایاکسی غیرمحرم کےساتھ سفر کرنا اگرچہ دیگرخواتین کی معیت میں ہو ،شرعاً جائز نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کا بہنوئی چونکہ اس کیلئے نامحرم ہے، اس لیےاس کاسائلہ کو عمرہ کےلیےساتھ لےجانے سےانکار شرعی اعتبار سے درست ہے، لہذاسائلہ کواگر فی الحال کوئی محرم میسر نہ ہو، تو عمرہ مؤخر کردے؛ محض شوقِ عمرہ کی وجہ سے نامحرم بہنوئی کے ساتھ سفر کرنےسے احترازلازم ہے۔
کما في الصحيح للامام مسلم رحمہ اللہ:عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر سفرا يكون ثلاثة أيام فصاعدا إلا ومعها أبوها، أو ابنها، أو زوجها، أو أخوها، أو ذو محرم منها ». (باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره، ج: 1، ص: 691، رقم الحدیث: 1340، مکتبۃالبشریٰ)
وفی الدر المختار: (و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا أو ذميا أو برضاع (الیٰ قولہ) لامرأة حرة ولو عجوزا في سفر ، الخ
وفی رد المحتار تحت قول الدر( ومع زوج أو محرم): هذا وقوله ومع عدم عدة عليها شرطان مختصان بالمرأة فلذا قال لامرأة وما قبلهما من الشروط مشترك والمحرم من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو صهرية كما في التحفة، الخ (كتاب الحج، ج: 2، ص: 464، مط: سعید کراچی)