میں فیکٹری میں کام کرتا ہوں، میں نے کئی دفعہ فیکٹری سے قرض لیا جو کہ اصل رقم کے برابر ماہانہ قسطوں میں ادا کردیا، اب کمپنی نے ایک شرط رکھ دی ہے کہ جو کوئی بھی قرض لے گا اُس کا ساڑھے بارہ فیصد (12.5%) زیادہ ادا کرے گا، اب مجھے بطورِ قرض پیسوں کی اشد ضرورت ہے، کہیں اور سے مجھے قرض مل نہیں رہا، کیا میں فیکٹری کے اس شرط کے ساتھ قرض لے سکتا ہوں؟ برائے مہربانی جواب جلد میرے ای میل ایڈریس پر دیں۔
مذکور شرط پر قرض لینا سودی معاملہ ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے اس لئے اس سے احتراز لازم ہے البتہ فیکٹری مالکان سے اپنی واقعی مجبوری بیان کرکے قرض کی بات کی جائے تو امید ہے کہ وہ سودی معاملہ کے بغیر بھی قرض دے دیں، اس صورت میں انہیں تعاون اور خیرخواہی پر اجر و ثواب بھی ہوگا۔
کما في الشامیة: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا. الخ (۵/۱۶۶)-
وفي الفقه الإسلامي: كل قرض جر نفعاً حرام إذا كان مشروطاً، فإن لم يكن النفع مشروطاً أو متعارفاً عليه في القرض، فلا بأس به. الخ (۵/۳۷۹۳)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1