السلام علیکم !
محترم آپ سے ایک مسئلہ کا حل پوچھنا ہے، میری بیوی نے گورنمنٹ سکول سے ریٹائرمنٹ پالیسی کے تحت گریجویٹی کی رقم قومی بچت بینک میں فکس کروائی ہوئی ہے اور اس کا ماہانہ منافع اپنی ذات پر خرچ نہیں کرتی، بلکہ کسی کی مدد کیلئے اس کو دے دیتی ہے، آپ سے یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا اسلام میں ریٹائرمنٹ کی رقم فکس کرانا، اس کا منافع لینا جائز ہے؟ اس مسئلہ پر آپ کا تفصیلی جواب ہماری کشمکش کو حل کرسکتا ہے۔
جو رقم ملازم کو بطورِ ریٹائرمنٹ ملتی ہے، اسکا لینا تو بلاشبہ جائز اور درست ہے، لیکن اس رقم کو "قومی بچت بینک" وغیرہ کی سودی اسکیموں میں رکھوا کر اس پر منافع لینا اگرچہ محض غرباء کی مدد اور مستحقین پر صدقہ کرنے کی نیت سے کیوں نہ ہو،شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ کسی جائز کاروبار وغیرہ میں لگوا کر اس کا نفع دیا جائے تو بہت بڑی نیکی ہے۔
کما فی تنزیل العزیز: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً (آل عمران: 130الآیة)
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1