میں کسی سے پیار کرتی ہوں اور اُس میں کوئی خرابی نہیں ہے صرف یہ کہ وہ لانڈھی میں رہتاہے، مگر میرے والدین نہیں مان رہے، کیا یہ غلط ہے وہ بھی مجھ سے بہت پیار کرتا ہے، مگر وہ میری امی سے ڈرتاہے کہ کہیں وہ منع نہ کردیں، مجھے جاننا ہے کہ کیا کسی سے پیار کرنا گناہ ہے؟ میں استخارہ کرنا چاہتی ہوں ہم دونوں کے پیار کیلیے۔
پیار سے مرادا گر کسی بھی اچھی چیز کا پسند آنا اور اس کی طرف طبیعت کے میلان ہو تو یہ ایک فطری چیز ہے جو انسان کی قدرت میں نہیں اور یہ گناہ کے زمرے میں بھی نہیں آتا، مگر معاشرے میں جس چیز کو پیار قرار دیا جاتاہے کہ غیر محارم نے باہم بے تکلفی کی اور شہوت پر مبنی کلام کرتے ہیں اور بے حجابانہ تعلقات اختیار کیے جاتے ہیں یہ قطعاً ناجائز اور شرعاً ممنوع ہے اور حرام کام کے لیے استخارہ بھی جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففي الدر المختار للعلامة الحصکفي: (وكذا) تنظر المرأة (من الرجل) كنظر الرجل للرجل (إن أمنت شهوتها) فلو لم تأمن أو خافت أو شكت حرم استحسانا كالرجل هو الصحيح في الفصلين اھ
وفي حاشية بن عابدین: تحت قوله(حرام استحسانا) فأما إذا علمت أنه يقع في قلبها شهوة أو شكت ومعنى الشك استواء الظنين فأحب إلي أن تغض بصرها هكذا ذكر محمد في الأصل اھ (۶/۳۷۱) واللہ أعلم بالصواب!
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0