کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلہ میں یہ طریقہ رائج ہے کہ بعض لوگ اپنے گھروں میں مولوی حضرات یا دینی مدارس کے طلبہ کرام لے جاتے ہیں، تاکہ یہ لوگ ہمارے گھروں میں آکر ہمارے لیے برکت کی دعا کریں اور ہمارا قرآن بخشوا دیں۔ مطلب یہ وہ لوگ جو قرآن کریم پڑھ چکے ہیں ایک یا دو ختم کر چکے ہیں ان کا ثواب آپﷺ کے روح مبارک و اولیاء کرام و ائمہ مجتہدین و مفسرینِ کرام اور مسلمان مرد و عورت جو مرچکے ہیں ان کے نام پر ایصال ثواب کرتے ہیں اور وہ لوگ مولوی حضرات یا طلباء کو کھانا کھلاتے ہیں اور رقم بھی دیتے ہیں، اگر رقم وغیرہ نہ لے تو وہ بہت اصرار کرتے ہیں۔ تو کیا یہ طریقہ درست ہے یا نہیں اور ان کے ہاں کھانا کھانا اور رقم لینا بھی درست ہے یا نہیں؟ براہ ِکرم مسئلہ کا شرعی حل بتا کر ممنون فرمائیں۔
کسی صالح شخص کو دعا کی غرض سے اپنے گھر لے جانا اور اس کی خاطر تواضع کرنا بھی جائز اور درست ہے، مگر یہ تصوّر کہ ہر پڑھنے والا اور عام آدمی ایصالِ ثواب نہیں کر سکتا، اس کے لیے باضابطہ کسی بزرگ شخصیت کا ہونا لازم اور ضروری ہے، قطعاً غلط اور جاہلانہ طرزِ عمل ہے، جس سے احتراز چاہیے۔
ففی حاشية ابن عابدين: صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة۔اھ (2/ 243) واللہ أعلم بالصواب!
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0