کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جو صاحبِ علم بھی ہے اور صاحبِ نسبت بھی، اور یہ شخص پیری مریدی بھی کرتا ہے، اس کے بہت سارے مرید بھی ہیں، ان سب چیزوں کے باوجود وہ اپنی ماں سے عرصہ دوسال سے بات چیت نہیں کرتا اور وہ اپنی ماں کو دیکھنا بھی گوارا نہیں، یہاں تک کہ اس نے اپنی ماں کو یہ تک کہہ دیا ہے کہ ’’تو سب سے بڑی شیطان ہے‘‘ جبکہ اس نارضگی کا کوئی بھی شرعی یا معقول عذر نہیں ہے تو ایسے شخص کا کیا حکم ہے اور ایسے شخص کی بیعت کرنا کیسا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست ہو اور شخص مذکور کا یہ طرزِ عمل بغیر کسی وجہ کے ہو تو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے کی وجہ سے اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ سے باز آجائے اور بصدقِ دل توبہ و استغفار کے علاوہ اپنی والدہ سے بھی دست بستہ معافی مانگے، کیونکہ اس طرزِ عمل کے ہوتے ہوئے اس کی پیری مریدی شیطانی دھوکہ ہے اور جب تک وہ باز نہ آئے لوگوں کو اس کی بیعت سے اجتناب کرنا چاہیے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾ (الإسراء: 23، 24)
وفی الجامع للاحکام القرآن: من البر بهما والإحسان إليهما ألا يتعرض لسبهما ولا يعقهما، فإن ذلك من الكبائر بلا خلاف، اھ (۵/۱۵۵)
وفی صحيح البخاري: قال الوليد بن العيزار: أخبرني قال: سمعت أبا عمرو الشيباني، يقول: حدثنا صاحب - هذه الدار وأشار إلى دار - عبد الله، قال: سألت النبي - صلى الله عليه وسلم -: أي العمل أحب إلى الله؟ قال: «الصلاة على وقتها»، قال: ثم أي؟ قال: «ثم بر الوالدين» قال: ثم أي؟ قال: «الجهاد في سبيل الله» اھ (1/ 112)
و فی صحيح مسلم: عن أبي هريرة، قال: جاء رجل إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: من أحق الناس بحسن صحابتي؟ قال: «أمك» قال: ثم من؟ قال: «ثم أمك» قال: " ثم من؟ قال: «ثم أمك» قال: ثم من؟ قال: «ثم أبوك» اھ (4/ 1974)
و فی صحيح البخاري:عن المغيرة بن شعبة، قال: قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: " إن الله حرم عليكم: عقوق الأمهات الخ (3/ 120)
و فیه أیضاً:عن عبد الله بن عمرو، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس" اھ(8/ 137)
و فی سنن ابن ماجه: عن أبي أمامة، أن رجلا قال: يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ما حق الوالدين على ولدهما؟ قال: «هما جنتك ونارك» (2/ 1208)
وفی الجامع لشعب الإيمان: عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : "رضا الله من رضا الوالدين، وسخط الله من سخط الوالدين" اھ (10/ 246) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0