جناب مفتی صاحب! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عرض یہ ہے کہ (میں بنام سلیم معراج ولد معراج الدین سکونت مکان نمبر E/۱۱۹ زبیری کالونی منگھوپیر روڈ کراچی) مجھے ایک اپنے مسئلہ کے بارے میں آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے، آپ سے گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جناب عالی! میری بڑی خالہ صاحبہ جو کہ ہمارے گھر کے نزدیک ہی رہائش پذیر تھیں، ان کے پڑوس میں ایک کرسچن فیملی رہتی تھی، ہمارے خالہ کے اس فیملی سے تعلقات بہت قریبی تھی یہاں تک کہ ان دونوں گھروں کےدرمیان میں دیوار بھی نہ تھی اس کرسچن فیملی کی کوئی اولاد نہ تھی انہوں نے ہماری خالہ سے ان کا ایک بیٹا لے کر پالا اور اس کو اپنی اولاد کی طرح رکھا ہوا ہے۔
میں جب سنِ شعور کو پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ کرسچن فیملی مسلمان ہو چکی ہے، مگر میں نے کبھی ان کو نماز روزہ وغیرہ کرتے ہوئے نہیں پایا، تقریباً ۱۹۹۴ء میں وہ فیملی ہماری خالہ کے پڑوس سے شفٹ کر گئی اور خالہ کے اس بیٹے کو بھی ساتھ لے گۓجس کی وہ اب شادی بھی کر چکے ہیں مسلمانوں میں، اس کی بھی تین اولادیں ہیں وہ سب اس کرسچن فیملی کے ساتھ ہی رہائش پذیر ہیں ،میری شادی بھی میری خالہ کے گھر میں ہی ہو چکی ہے اور میں بھی صاحبِ اولاد ہوں، میری خالہ اور ان کی دیگر اولادیں آج بھی کرسچن فیملی سے ملتے جلتے ہیں، بلکہ وہ ان کو اپنے ماں باپ کا درجہ دیتے ہیں۔
جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ وہ فیملی ۱۹۹۴ء میں وہاں سے شفٹ کر گئی تھی وہاں سے جانے کے بعد اس جوڑے نے دوبارہ کرسچن مذہب اختیار کیا اس بات کی میرے پاس کوئی سند نہیں ہے کہ اس جوڑے نے اسلام قبول کیا تھا، میں نے اس بارے میں جو کچھ اپنے بزرگوں سے سنا تھا وہی تحریر کر رہاہوں۔
اس جوڑے میں عورت جو کہ پچھلے سال فوت ہو چکی ہے، اس کی تدفین کے موقع پر میں بھی اپنی زوجہ کو لے کر گیا، میں کچھ دیر ان کے گھر بیٹھ کر یہ کہہ کر چلا گیا کہ مجھے دفتر جانا ہے، جب آپ لوگ قبرستان پہنچ جائیں تو مجھے فون کر دینا، انکی میت کے ساتھ میری خالہ کے تمام بچے بچیاں (میری بیوی نہیں) اور میری خالہ چرچ بھی گئے تھے۔
میں قبرستان پہنچ کر تدفین کے موقع پر موجود تھا میرے ساتھ دیگر مسلمانوں میں میری خالہ کے بچے ان کا بیٹا جو اس فیملی نے مِل کر پالا ہے، اس کی بیوی اور تینوں بچے، انہوں نے ان کی تدفین میں کرسچن رسومات کے مطابق ان کو دفنایا، میں نے انکی قبر پر مٹی اور پھول ڈالے۔ اس کے بعد میں اور میری بیوی دوبارہ کبھی اس گھر میں نہیں گئے، جبکہ سوئم اور چہلم کے نام پر میری خالہ اور اس کی دیگر اولادوں نے اس گھر میں بیٹھ کر قرآن پڑھا ۔
پھر رمضان میں میرے سالے کی بیوی نے دعوت دی جو کہ میں نے رد کردی۔ جس پراس نے مجھے کہا کہ تم (اماں) مرنے والی عورت کے سوئم میں نہیں آئے، میں نے اس کو جواب دیا کہ اللہ مجھے معاف کرے، مجھے تدفین کے بعد علم ہوا کہ مسلمانوں کو ان کی تدفین میں شرکت نہیں کرنی چاہیے،مگر آپ لوگ تو سوئم اور چہلم کے نام پر ان کے لیے قرآن ختم کروایا ہے ، جس پر میرے سالے کی بیوی نے مجھے جواب دیا کہ تم تو ان کے متعلق یہ کہہ رہے ہو ،مگر ہماری ماں تو اچھی جگہ پر ہے اور تم کیا جانو کہ ہم کو ان کے مرنے کے بعد کیا کیا معجزات نظر آرہے ہیں؟ لہٰذا میں نے بات کو ختم کرنے کے لیے کہا کہ اس طرح کی باتیں نہ کرو اور مجھے کچھ نہیں سننا جو تم کو نظر آرہا ہے، بلکہ تم خود کفر کی مرتکب ہو رہی ہو، اللہ سے معافی مانگو، میں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے اور منہ سے الفاظ ادا کیے کہ اللہ مجھے معاف کرے اور میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں، اور مکمل اس فیملی کے ساتھ قطع تعلق کیا اور کسی خاندانی تقریب میں وہ لوگ آتے بھی ہیں تو میں ان سے نہیں ملتا ، جس کی وجہ سے میری خالہ اور ان کی دیگر اولاد مجھ سے ناراض ہیں میری خالہ نے مجھ سے خود کبھی نہیں کہا،مگر دیگر لوگوں کے ذریعہ یہ بات مجھ تک آئی کہ سلیم کو ان کے ساتھ اس طرح نہیں کرنا چاہیے، کہ وہ ان کو سلام بھی نہیں کرتا اور میں نے اپنی بیوی بچوں کو بھی ان سے ملنے سے منع کر دیاہے۔
ان تمام صورتِ حال میں میری راہنمائی فرمائیں کہ اگرمیرا یہ عمل غلط ہے تو مجھے اس کی اصلاح کرنی چاہیے اور اگر میری خالہ و دیگر لوگ غلط ہیں تو وہ بھی گناہ کے ارتکاب سےبچیں، اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت عطا فرمائے، آپ کو سمجھانے کی اور ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین!
واضح ہو کہ جب مذکور فیملی کا ابتداءً و انتہاءًکرسچن ہونا معلوم اور یقینی ہے تو اس صورت میں سائل کی خالہ وغیرہ کا ان سے تعلق ، ان کی جنازہ میں شرکت اور ان کے لیے ایصالِ ثواب وغیرہ کرنا بلاشبہ ایک کافر و غیر مسلم کے حق میں دعا و ایصال ثواب کرنا ہے، حالانکہ غیر مسلموں کے لیے ایصالِ ثواب، انکی میت پر قرآن پاک پڑھنا یا دعائے مغفرت کرنا شرعاً جائز نہیں۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پراس سے منع کیا ہے، خود رسول اللہﷺ نے اپنے چچا ابوطالب کے لیے دعاء ِ مغفرت کرنی چاہی تو آپﷺ کو منع فرمایا گیا، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ماكَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ (التوبة: 113)
ترجمہ: نبی اور مؤمنوں کے لیے روا نہیں کہ مشرکین کے لیے دعاءِ مغفرت کریں، اس کے باوجود کہ ان پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وہ دوزخی ہیں چاہے وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں۔
اسی طرح انکی قبروں پر کھڑا ہونا اور پھول وغیرہ چڑھانا بھی شرعاً جائز نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ﴾ (التوبة: 84)
ترجمہ: ان میں سے کسی مرنے والے پر کبھی نہ نماز جنازہ پڑھیے اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوئیے۔
اسی طرح کسی بھی غیر مسلم کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے اور باہم الفت و محبت اور بے تکلّفی اختیار کرنے کی بھی شرعاً اجازت نہیں، بلکہ ان امور سے بھی سختی کے ساتھ منع فرما دیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ﴾ (المائدة: 51)
لہٰذا سائل کی خالہ، خود سائل اور اس کے دیگر برادری ممبران پر لازم ہے کہ وہ غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے، ان کی قبروں پر جانے، پھول چڑھانے اور ان کے لیے ایصالِ ثواب وغیرہ کرنے سے مکمل احتراز کریں اور جو تعلقات ابھی تک غلطی سے رکھے گئےہیں ان پر ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار بھی کریں اور بلاوجہ ایک غلط اور ناجائز امر کی بناء پر باہم ناراضگی اور قطع تعلقی کرنے سے بھی احتراز کریں۔ واللہ أعلم بالصواب!
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0