کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے پڑوس میں عیسائی رہتے ہیں، یعنی بھنگی ہے وہ ہمارے ہاں کھانا بھیجتا ہے، اس کا کھانا استعمال کرنا کیسا ہے؟ جبکہ اس کے گھر کا حال ہمیں معلوم نہیں ہے، نیز اس کے برتن استعمال کرنا کیسا ہے؟
کھانا اور برتن اگر پاک صاف ہوں اور یہ لینا دینا کبھی کبھار ہوتا ہو، تب تو اس کی شرعاً بھی گنجائش ہے ورنہ نہیں۔
ففی تفسير ابن كثير: وَأَتْبَعَ نَهْيَهُ قَوْلَ اللَّهِ: {إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ}(إلی قوله) وَأَمَّا نَجَاسَةُ بَدَنِهِ فَالْجُمْهُورُ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ بِنَجِسِ الْبَدَنِ وَالذَّاتِ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَحَلَّ طَعَامَ أَهْلِ الْكِتَابِ الخ (4/ 131)
و فی الفتاوى الهندية: ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل ومع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز ولا يكون آكلا ولا شاربا حراما اھ (5/347)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0