السلام علیکم جناب! میں استخارہ کے حوالے سے معلوم کرنا چاہتا ہوں، کہ کیا آن لائن مفتیانِ کرام سے کیے گئے استخارہ پر عمل کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایک شخص خود اسے صحیح نہ کر پائے۔
واضح ہو کہ استخارہ کرنا ایک مسنون عمل ہے، اور سنت یہی ہے کہ صاحبِ معاملہ خودہ استخارہ کرے، دوسرے سے استخارہ کر انا مسنون عمل نہیں، لہٰذا استخارہ کا از خود اہتمام کرنا چاہیے۔
کما في سنن الترمذي: عن جابر بن عبد الله قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة" فی الأمور كلها، كما يعلمنا السورة من القرآن، يقول: إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل: أللّٰهُمَّ إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم؛ فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب، أللّٰهُمَّ إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي فی ديني ومعيشتي وعاقبة أمري، أو قال: فی عاجل أمري وآجله -: فیسره لي ثم بارك لي فیه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي فی ديني، ومعيشتي، وعاقبة أمري أو قال: فی عاجل أمري وآجله - فاصرفه عني، واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان، ثم أرضني به. قال: ويسمي حاجته اھ (2/ 345)
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0