کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی بزرگ یا استاد کے سامنے عزت وا حترام کے لئے جھکنا یا قدم چھونا اس کی کیا حیثیت ہے شرع میں، کیا یہ حرام ہے یا مکروہ ہے یا درست ہے؟ خیال رہے کہ یہ ہندو مذہب سے آیا ہے۔
کسی بزرگ یا صاحب المرتبہ وغیرہ کی دست بوسی یا قدم بوسی جائز جبکہ دست بوسی وغیرہ کے ضمن میں جو جھکنا پایا جائے اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔لیکن موجودہ زمانے میں جھکنا یا قدم بوسی کرنا نہ صرف یہ کہ بعض علاقوں میں معمول اور رواج بن گیا ہے، بلکہ اس سے احتراز کرنے والے کو متکبر و مغرور شمار کیا جاتا ہے اور اسے بنظرِ حقارت دیکھا جاتا ہے، ایسی صورت میں جھکنا وغیرہ بلاشبہ ناجائز وممنوع ہے جس سے اجتناب لازم ہے۔
فی إعلاء السنن: عن أنس بن مالک قال: قال رجل یا رسول اﷲ! الرجل منا یلقی اخاہ أو صدیقہ أینحنی لہ؟ قال: لا، قال أفیلتزمہ ویقبلہ؟ قال: لا، قال فیأخذہ بیدہ ویصافحہ قال نعم، الخ۔ قال العلامۃ المؤلف: أقول: التقبیل والاعتناق قد یکونان علی وجہ التحیۃ، کالسلام والمصافحۃ، وہما الّلذان نہی عنہما فی الحدیث (إلی قولہ) وقد یکونان لہیجان المحبۃ والشوق والاستحسان عند اللقاء وغیرہ من غیر شائبۃ الشہوۃ وہما مباحان بإتفاق أئمتنا الثلاثۃ لثبوتہما عن النبی ﷺ وأصحابہٖ ولعدم مانع شرعی ہذا ہو التحقیق (إلی قولہ) وقد یکون التقبیل والإلتزام علی وجہ التبرک والتعظیم کتقبیل الأرض بین یدی السلطان (إلی قولہ) وتقبیل أیدیہم وأرجلہم وہو غیر جائز لأن مثل ہذا التعظیم مختص بالکعبۃ والحجر ولم یثبت لغیرہما من السلف والثابت عنہم ہو التقبیل علی وجہ المحبۃ والشوق دون التبرک والتعظیم فمن أجاز ذلک للعلماء والسلطان لم یتدبر حقیقۃ الأمر، فاعرف ذالک۔ (ج۱۷، ۱۸۔۴۱۹) واﷲ اعلم
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0