محترم جناب علماءِ کرام صاحبان! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ
سلام کے بعد عرض ہے کہ ایک اہم مذہبی مسئلہ پر آپ لوگوں سے رائے (فتویٰ) لینا چاہتا ہوں اور آپ تمام قابلِ احترام ہستیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اس مسئلہ پر آپ لوگ اپنی اپنی رائے دائرہ اسلام اور قرآن و حدیث کی روشنی میں دیں تاکہ اس مسئلہ کو بہتر طریقہ سے حل کیا جاسکے۔
محترم جناب مسئلہ یہ عرض ہے کہ میں جس فیکٹری میں کام کرتا ہوں وہاں پر تقریباً اکثریت مسلمانوں کی ہے لیکن تھوڑی تعداد میں غیر مسلم (کرسچن) بھی کام کرتے ہیں اور ہماری فیکٹری میں ایک عدد کینٹین ہے جس میں سے تمام آدمی مسلم و غیر مسلم کھانا کھاتے ہیں اور غیر مسلم (عیسائی) ہمارے مسلمانوں کے برتن استعمال کرتے ہیں، یعنی جس برتن میں مسلمان آدمی کھانا کھاتے ہیں اسی برتن میں غیر مسلم (عیسائی) بھی کھانا کھاتے ہیں، اور اس کے علاوہ پانی پینے کیلئے جو گلاس استعمال کیا جاتا ہے اسے دونوں یعنی غیر مسلم (عیسائی) اور مسلم استعمال کرتے ہیں، اس لئے ہمارے چند مسلمان بھائی اعتراض کرتے ہیں کہ غیر مسلمانوں کے برتن الگ ہونے چاہۓ، اور اس مسئلہ پر ہمارے چند ساتھیوں اور قابلِ احترام افسروں کی رائے ہے جو میں تحریر کررہا ہوں تاکہ اس مسئلہ کو بہتر طریقہ سے سمجھ کر حل کیا جائے۔
(۱) غیر مسلم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاسکتے ہیں لیکن برتن الگ الگ ہونے چاہۓ۔
(۲) انسانیت کے ناطے اور حُقوق العباد کا خیال رکھتے ہوئے ہمارے برتن استعمال کرسکتے ہیں۔
(۳) اگر غیر مسلم برتن استعمال کرلیتا ہے تو کلمۂ طیبہ پڑھ کر اور برتن دھوکر استعمال کرسکتے ہیں۔
(۴) بعض ساتھیوں کی رائے ہے کہ ہمیں اپنا دل بڑا رکھنا چاہئے اور انہیں اپنے برتن استعمال کرنے دیں اور ان سے حُسنِ اخلاق سے پیش آئیں، تاکہ وہ ہمارے حُسنِ اخلاق اور محبت سے متاثر ہوکر دائرہ اسلام میں آجائیں۔
(۵) بعض ساتھیوں کی رائے ہے کہ بوسنیا، چیچنیا، آذربائی جان وغیرہ میں غیر مسلم (عیسائی) ہماری مسلمان ماؤں، بہنوں کی عزتیں تار تار کررہے ہیں اور مسلمان مردوں کا قتلِ عام کررہے ہیں، اس لئے اگر ہم انسانیت کے ناطے اور حقوق العباد کے ناطے ان سے بُرا سلوک نہیں کرسکتے تو ان سے اچھا سلوک بھی نہیں کرنا چاہئے۔ مثلاً: دوستی کرنا، ایک برتن میں بیٹھ کر کھانا، کھانا، ان سے سلام و دعا وغیرہ کرنا۔
(۶) بعض ساتھیوں کی رائے ہے کہ غیر مسلم اہل کتاب کی ہاتھ کی پکی ہوئی اشیاء کھائی جاسکتی ہیں اور ان سے شادی وغیرہ بھی کی جاسکتی ہے تو ایک برتن میں کھایا جاسکتا ہے اور ایک دوسرے کے برتن بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔
(۷) بعض ساتھیوں کی رائے ہے کہ ان غیر مسلمانوں سے نفرت نہ کرو کیا معلوم یہ بعد میں مسلمان ہوجائیں۔
(۸) بعض ساتھیوں کی رائے ہے کہ ہم سب مسلمانوں نے کلمہ طیبہ پڑھا ہے اور کلمۂ طیبہ پڑھنے سے انسان کی زبان بلکہ پورا جسم اندر سے پاک ہوجاتا ہے اس لئے ہم سب مسلمان ایک دوسرے کا جھوٹا کھاپی سکتے ہیں اور غیر مسلم کلمۂ طیبہ نہیں پڑھتا ہے اور وہ مجسم ناپاک ہے اس لئے اس کا جھوٹا نہیں کھاسکتے۔
لہٰذا جناب عالی آپ سے التماس ہے کہ آپ قرآن و سنت و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کا بہتر جواب عنایت فرمائیں، مہربانی ہوگی
غیر مسلموں کے ساتھ مِل بیٹھ کر کھانا کھانا اور اس کو اپنا معمول بنانا یا اُن کے ساتھ تعلقات قائم کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کبھی کبھار اُن کے ساتھ بیٹھ کر کھانا پڑجائے تو اس میں کوئی گناہ نہیں بلکہ جائز ہے جبکہ کھانا، کھانے کے برتن اور ساتھ بیٹھ کر کھانے والا غیر مسلم پاک و صاف ہوتا ہے ،تاہم اس سے بھی احتراز بہتر اور افضل ہے اور غیر مسلموں کے ساتھ دوستی رکھنا تو بہرحال حرام ہے۔
فی الہندیۃ: وحکی عن الحاکم الامام عبدالرحمٰن الکاتب أنہ إن ابتلی بہ المسلم مرۃ أو مرتین فلا بأس بہ وأما الدوام علیہ فیکرہ کذا فی المحیط۔ اھـ(ج۵، ص۳۴۷)-
وقولہ تعالٰی: {لَا تَتَّخُذُوْا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃْ}۔(الآیۃ: سورۃ ممتحنۃ)واﷲ اعلم
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0