کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کسی نیک کام میں مصروف ہو، اور اس کے دل میں ریاکاری اور شہرت کی تمنا ہو اور کام ختم ہونے سے پہلے اس نے اپنی نیت کو خالص کر لیا تو کیا یہ کام ریاکاری میں شمار ہوگا، حالانکہ درمیان میں دکھلاوے کا خیال دل میں پیدا ہوا تھا؟
محض دکھلاوے کے خیال کا دل میں پیدا ہو جانا بُرا اور باعث مؤاخذہ نہیں، بلکہ اس خیال کو برقرار رکھنا اور پھر اس کے موافق امور انجام دینا ایک بُری حرکت ریاکاری اور قابل مؤاخذہ عمل ہے، جس سے احتراز لازم ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل ایسے خیالات کو اپنی کوشش سے ہٹا دینا ہے یا نہ چاہتے ہوئے ایسے خیالات آجاتے ہیں تو اس کا یہ عمل بلاشبہ درست اور باعثِ برکت و اجر وثواب ہے۔
ففی صحيح البخاري:وإنما الأعمال بخواتيمها۔(8/ 103)
وفی حاشية ابن عابدين: لو افتتحها مرائيا ثم أخلص اعتبر السابق. وهذا بخلاف ما لو كان عبادة يمكن تجزئتها كقراءة واعتكاف، فإن الجزء الذي دخله الرياء له حكمه والخالص له حكمه اھ(1/ 438) واللہ أعلم بالصواب!
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0