السلام علیکم !
نکاح کیلئے جو استخارہ کسی اور سے کرواتے ہیں،کیا یہ صحیح ہے یا غلط ؟ اور ان کے فیصلے کو اپنانا چاہیئے یا نہیں؟ براہِ مہربانی اس سوال کا جواب عنایت فرمائیں ۔
واضح ہوکہ اگر کسی کو کوئی اہم معاملہ درپیش ہو تو اس کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ از خود استخارہ کرے اور استخارے کے بعد جس طرف اس کا قلبی میلان ہو اس کے مطابق عمل کرے،کسی اور سے استخارہ نہ کروائے،البتہ اگر کوئی شخص از خود استخارہ کرنے کے بجائے کسی اور سے استخارہ کروائے تو ایسا اگرچہ کیا جاسکتا ہے،لیکن اگر کسی اور کے استخارہ سے کسی طرف قلبی اطمینان نہ ہو تو اس کی رائے کے مطابق عمل کرنا لازم نہیں،بلکہ اپنے دلی اطمینان کے مطابق عمل کرنا چاہیئے ۔
کمافی رد المحتار: مطلب في ركعتي الاستخارة (قوله ومنها ركعتا الاستخارة) عن «جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن يقول إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك (الیٰ قوله) وينبغي أن يكررها سبعا، لما روى ابن السني «يا أنس إذا هممت بأمر فاستخر ربك فيه سبع مرات، ثم انظر إلى الذي سبق إلى قلبك فإن الخير فيه» اھ(2/26)۔
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0