انشورنس کیا حلال ہے یا حرام؟ میرے پاس آپ کے دار الافتاء کا ایک فتوی ہے کہ انشورنس حلال ہے، اور یہ کہ انسانی زندگی کے لئے اور بچوں کے مستقبل کے لئے فائدہ مند ہے، نیز یہ بتائیں کہ اسلامی اعتبار سے انشورنس اور سود میں کیا فرق ہے ؟
عام مروّجہ انشورنس کمپنیوں کے کاروبار کا زیادہ تر دار و مدار قمار و جوئے، دھوکہ و غرر اور سودی معاملات پر ہوتا ہے، اور روپیہ کمانے میں حلال و حرام کی امتیاز بھی نہیں کی جاتی، اس لئے مروّجہ انشورنس پالیسیاں اختیار کر نیکی شرعاً اجازت نہیں، اور اگر کسی مخصوص کمپنی سے متعلق معلومات چاہتے ہوں ،تو اس کار و بار کی مکمل وضاحت لکھ کر نیز ہمارے دار الافتاء کا جو فتوی سائل کے پاس ہے، اس کی فوٹو کاپی سمیت سوال دوبارہ بھیج دیا جائے ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائیگا ۔
كما قال الله تعالیٰ: ﴿يٰا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوه لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة 90)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0