میں امریِکہ میں ایک میڈکل کلینک میں ، میڈیکل اسسٹنٹ کےطورپر کام کرتا ہوں،میری ساری ذمہ داریاں میڈیکل سے تعلق رکھتی ہیں سوائے ایک کے ،اور وہ ہے مریضوں کے میڈیکل انشورنس کے کاغذات کے معاملے میں ان کی مدد کرنا ، مثلاً مریض کے علاج کے لئے ان کے انشورنس کے کاغذات برابر کرنا ، اس کے لئے بعض اوقات مجھے انشورنس کمپنی کو کال بھی کرنی پڑتی ہے ، کیا اس سے میری آمدنی حرام ہو جاتی ہے؟ یا اس کا میری آمدنی پر کچھ اثر نہیں پڑتا؟
سائل کی بنیادی ذمہ داری اگر میڈیکل سے متعلق ہو اور اسے صرف اسی کام کی تنحواہ ملتی ہو تو یہ کام شرعاً جائز اور اس پر ملنے والی تنخواہ حلال ہے ،البتہ اس دوران اگر کسی موقع پر مریض کےانشورنس کے کاغذات وغیرہ برابر کرنا پڑے اور اسی سلسلہ میں انشورنس کمپنی کو کال کرکے صرف تحقیق و تفتیش کرنی پڑے،سودی معاملہ سے کوئی لین دین نہ ہو تو سائل کی آمدنی کو حرام تو نہیں کہا جاسکتا ،لیکن چونکہ اس میں ایک گونہ انشورنس معاملہ میں تعاون کی صورت پائی جاتی ہے ،اس لۓ اگر سائل اپنی تنخواہ میں سے تھوڑی بہت رقم صدقہ کردیا کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ : و تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى وَ لَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدۃ : 2 الآیۃ )۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0