کیا کرایہ پر دیا ہوا کار کی آمدنی حرام ہوگی جب کے اوس کار پر انشورنس بھی ہو کیوں کے انشورنس حرام ہے تو کل کرایہ کی کمائی بھی حرام ہوگی اور اگر یہ کار بھیج دیتے ہیں مستقبل میں تو کل رقم حرام ہوگی یا سرف منافع؟
واضح ہو کہ گاڑی کے انشورنس کرانے سے گاڑکی مالیت یا اس کی آمدنی حرام نہیں ہوتی، اس لیے اس گاڑی کو کرایہ پر دیکر اس کا کرایہ وصول کرنا یا اسے فروخت کرکے اس کی قیمت لینا ہردوامور شرعاجائز اور درست ہے۔
تاہم انشورنس کا معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں، جس پر توبہ واستغفار اور اس معاملہ کو جلد ازجلد ختم کرنا لازم ہے۔ البتہ معاملہ ختم کرتے ہوئے بطورپریمم جمع کردہ رقم کے بقدر وصول کرنا جائز ہے، اس سے زائدرقم وصول کرجائز نہیں۔
قال اللہ سبحانہ وتعالی:
يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون: [المائدة: 90]
وفی مصنف ابن ابی شیبۃ:
"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر".(4/483، کتاب البیوع والأقضیة)
وفی الشامیۃ:
"وَسُمِّيَ الْقِمَارُ قِمَارًا؛ لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ الْمُقَامِرَيْنِ مِمَّنْ يَجُوزُ أَنْ يَذْهَبَ مَالُهُ إلَى صَاحِبِهِ، وَيَجُوزُ أَنْ يَسْتَفِيدَ مَالَ صَاحِبِهِ وَهُوَ حَرَامٌ بِالنَّصِّ".(6 / 403، کتاب الحظر والاباحۃ)
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0