السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ! کیا انشورنس کی قسم تکافل حلال ہے؟ اس کی کوئی صورت حرام ہے؟انشورنس کس بینک سے کروانی چاہئے؟
واضح ہو کہ انشورنس اور تکافل دو الگ الگ قسم کے معاملات ہیں، انشورنس سود، قمار اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، جبکہ تکافل باہمی تعاون و تناصر اور تبرع پر مشتمل انشورنس کا ایک متبادل نظام ہے، جس کی بنیاد وقف پر ہے، تکافل کمپنیاں اگر اپنے تمام معاملات مستند علماءِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی زیرِ نگرانی انجام دے تو ان سے تکافل کی کوئی بھی پالیسی لینا شرعاً جائز ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: یٰا أیہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربا ان کنتم ٓمؤمنین۔ (البقرۃ: آیت ۲۷۸)۔
ایضًا قال: یٰا أیہا الذین اٰمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون۔ (المائدۃ: آیت ۹۰)
وایضًا قال: وتعاونوا علی البر والتقویٰ۔ (المائدۃ: آیت۲) واللہ اعلم بالصواب
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0