السلام علیکم! میں جرمنی پڑھنے کے لئے جانا چاہتا ہوں، لیکن وہاں کی حکومت کی شرط ہے کہ ہیلتھ انشورنس کرائی جائے،جرمنی اس لئے کہ وہاں پڑھائی مفت ہے ،ایسے میں کیا کرنا بہتر ہے ؟
سائل کے پڑھائی کےلئے اگر کسی اور جگہ مناسب انتظام ہوسکتا ہو تو پھر سائل کو ہیلتھ انشورنس کروا کر جرمنی جانے کے بجائے اس دوسری جگہ ہی اپنی تعلیم جاری رکھنی چاہیئے ، البتہ اگر سائل کےلئے تعلیم کے سلسلے میں جرمنی جانا ہی لازم اور ضروری ہو ، اس کےعلاوہ اور کوئی متبادل نہ ہو اور وہاں تعلیم حاصل کرنے کےلئے ہیلتھ انشورنس کرانا بھی لازم ہو اور اس کے لئے اور کوئی جائز متبادل صورت ممکن نہ ہو ، تو ایسی صورت میں بامرِ مجبوری ہیلتھ انشورنس کرانے کی گنجائش ہے ، لیکن اس کےلئے سائل ہیلتھ انشورنس ادارہ کو جتنی رقم جمع کرائےگا ، اس حد تک سائل کےلئے اس رقم کو استعمال کرنے اور اس پالیسی سے مستفید ہونے کی اجازت ہوگی اور زائد رقم کا استعمال سائل کےلئے جائز نہ ہوگا ۔
کما قال اللہ تعالیٰ : يأیها الذين امنوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْميْسِرُ وَ الْأَنْصَابُ وَ الْأَزْلام رجس من عمل الشيطنِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔(المائدۃ ایت 90)۔
و فی صحیح مسلم : عن جابرؓ قال : لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ و قال ھم سوآء۔(219/3)۔
و فی فقہ البیوع : أما الشرکات التی تتمحض لتأمین الاشیاء أو المسئولیات(إلی قوله)فان شرکۃ التأمین تدفع الی صاحبہاقیمتھا او قیمۃ اصلاحھا نقداً ، و ذلک مقابل أقساط التأمین ، فان ھذا العقد فیہ ربا ، فلم یبق من المحکوم علیہ بالحلال فی اموال الشرکۃ الا رأس المال ، و حینئذ صارت أموال الشرکۃ مخلوطۃ بالحلال و الحرام۔(2/1068)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0