السلام علیکم! ایک بندہ کینیڈا میں فوت ہوا جس نے وہاں کے قانون کے مطابق زندگی کا بیمہ کروایا ہوا تھا جس کے مطابق اب اس کی فیملی کو مستقل ایک رقم ملتی رہے گی؟ جس کا اب دوسرا کوئی ذریعہ معاش نہیں؟ معلوم یہ کرنا ہے کہ شرعاً یہ رقم لینا جائز ہے یانہیں ؟ شکریہ!
مذکور انشورنس کمپنی میں مرحوم نے جتنی رقم (پریمیم) جمع کروائی تھی اتنی حد تک رقم وصول کرنا مرحوم کے ورثاء کیلئے جائز اور درست ہے مگر اس سے زائد وصول کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
فی احکام القرآن للجصاصؒ: تحت قولہ تعالٰی (وحرم الربا) فانتظم قولہ تعالی وحرم الربا تحریم جمیعہا لشمول الاسم علیہا من طریق الشرع۔ الخ (ج۱، ص۴۶۵)۔
وفیہ ایضًا: تحت قولہ تعالٰی (یسئلونک عن الخمر والمیسر، قل فیہما اثم کبیر) قال ابوبکرؒ دلالتہ علی تحریم المیسر (الی قولہ) ولا خلاف بین اہل العلم فی تحریم القمار وان المخاطرۃ من القمار۔ (ج۱، ص۳۲۹) واللہ اعلم بالصواب
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0