میرا سوال ہے کہ بیمہ پالیسی کروانا حلال ہے یا حرام؟
مروجہ انشورنس "بیمہ پالیسیاں" جوئے، قمار اور سودی معاملات پر مشتمل ہونے کی وجہ سےشرعاً جائز نہیں، اس لئے انشورنس خواہ زندگی سے متعلق ہویا دیگر اموال سے متعلق، بہر صورت اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کسی پالیسی کو قانوناً لازم قراردیا جائے اور اسے اختیار کئے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، تو ایسی پالیسی اپنانے کی شرعاً گنجائش ہوگی۔
کما قال اللہ تعالیٰ: یا ایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون۔ الآیۃ (سورۃ المائدۃ/9)۔
وفی الصحیح المسلم: عن جابر قال: لعن رسول اللہ ﷺ اکل الربا، وموکلہ، وکاتبہ، وشاھدیہ، وقال: ھم سواء (ج3 صـ1219 ط: دار احیاء التراث)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0