کیا مسلمان ہندو کے گھر کا یا اس کے پیسوں سے کھانا کھا سکتا ہے ؟ میں نے قرآن میں پڑھا تھا کہ اللہ تعالٰی نے اہل کتاب کا کھانا ہمارے لیے حلال کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اہل کتاب نہیں ہے اس کا کھانا حرام ہوا؟ کیونکہ جہاں ہم کام کرتے ہے وہاں ایک ہندو کام کرتا ہے ۔برائے مہربانی وضاحت کریں ؟
غیر مسلموں کا کھانا اگر حلال اور پاک وصاف ہونے کا یقین ہو اور کسی خاص موقع پر اس کا کھانا پڑ جائے تو اس کھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس کی مستقبل عادت بنا لینا جو دوستانہ تعلق کو جنم دیتا ہے جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہےاور محض کھانے کی حد تک اہل کتاب اور دوسرے کفار میں فرق نہیں ۔
كما قال الله تعالیٰ: {الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ } [المائدة: 5]۔
و في الجامع لأحكام القرآن: قوله تعالى : { وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ } (إلی قویه) الخامسة- وأما المجوس فالعلماء مجمعون - إلا من شذ منهم - على أن ذبائحهم لا تؤكل ، ولا يتزوج منهم ؛ لأنهم ليسوا أهل كتاب على المشهور عند العلماء. ولا بأس يأكل طعام من لا كتاب له كالمشركين وعبدة الأوثان ما لم يكن من ذبائحهم ولم يحتج إلى ذكاة اھ (6/ 77)
وفى الفتاوى الهندية: ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة فإن ذبيحتهم حرام ولم يذكر محمد رحمه الله تعالى الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط اھ (5/ 347) واللہ اعلم بالصواب