ہماری مسجد میں NGO( جو کہ حکومت کی NGO ہے) نے ایک لیٹرین بنائی ہے۔ کیا ان پیسوں سے لیٹرین بنانا جائز ہے؟ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ ‘‘الآية شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
کسی غیر مسلم تنظیم کی طرف سے ، کسی رفاہی کام وغیرہ میں معاونت اگر اس بناء پر ہو کہ اس کے ذریعہ سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے مذہب و ملت کی طرف آمادہ کرنے میں سہولت ہوگی، اور مسلمانوں کو اُن کے اِن باطل نظریات کا علم ہو جائے تو اس صورت میں اُن سے معاونت لینا بلاشبہ ناجائز اور حرام ہے، بلکہ ایسی چیز کو نیست و نابود کر دینا باعثِ اجر و ثواب ہے۔ اور اگر ایسی صورتِ حال نہ ہو، بلکہ اُن کا یہ فعل محض انسانیت کی نفع رسانی کی غرض سے ہو اور اُن کے مذہب میں یہ طاعت شمار ہوتا ہو، پھر ایسی اشیاء کا ان سے بنوانا جائز اور اُن کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔ واللہ أعلم بالصواب!