یہ پاکستان سے دوسرےممالک میں شفٹ ہونے کےبارے میں ہے،پاکستان کےموجودہ حالات پرغور کرتےہوئے کہ معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں اور ہر چیز مہنگی ہے ،اس کے علاوہ مجموعی طورپر معاشرے کا ماحول بھی اب اسلامی نہیں رہا، سوال والدین کا ہے جو مجموعی طور پر دیندار ہیں اور دین پر عمل کرتےہیں،جن کے 3 سے 9 سال کی عمر تک بچے ہیں، بیرون ملک ان کے رشتہ دار جو دیندار بھی ہیں ان کےبچے بھی ہیں،انہیں پاکستان چھوڑنےاور دوسرے ملک خاص طور پر برطانیہ میں شامل ہونےکےترغیب دے رہے ہیں،برطانیہ میں رہائش پذیر فیملیز کا بنیادی نکتہ یہ ہےکہ پاکستان میں ماحول اب اسلامی نہیں رہا،اور یہاں برطانیہ میں دین سے زیادہ جڑی ہوئی فیملیز ہیں ،اور مدارس اور علماءِ کرام بھی ہیں ،لہذاا گر والدین دین سے جڑجائیں ،تو بچےبھی انہیں کی طرح دوست بناتے ہیں اور اس ماحول کو اختیار کرتے ہیں،نہ صرف یہ کہ کوئی دین پرعمل کرتاہے ،بلکہ یہاں پرتبلیغی مواقع بھی بہت ہیں،لہذا اب پاکستان میں موجود والدین اس بارے میں پریشان ہیں کہ دوسرے ملک کی قومیت اختیارکرنا اور وہاں بسنے کیلئےجاناجائز ہے ؟
کسی غیر مسلم ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنا، اس کی قومیت اختیار کرنا اور اس ملک کے ایک باشندے اور ایک شہری ہونے کی حیثیت سےاسکو اپنا مستقل مسکن بنا لینا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حکم زمانے اور حالات کے اختلاف اور رہائش اختیار کرنےوالوں کی اغراض و مقاصد کےاختلاف سے مختلف ہوجاتا ہے، مثلاً:
۱۔ ا گر ا یک مسلمان کو اس کے وطن میں کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچائی جارہی ہو یا اس کو جیل میں ظلماً قیدکردیا جائے یا اسکی جائیداد ضبط کرلی جائے اور کسی غیر مسلم ملک میں رہائش ا ختیار کرنے کے سو ا ا ن مظالم سے بچنے کی اس کے پاس کوئی صورت نہ ہو ا یسی صورت میں اُس شخص کیلئے کسی غیر مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنا اور اس ملک کا ایک باشندہ بن کروہاں رہنا بلا کراہت جائز ہے، بشرطیکہ وہ اس بات کااطمینان کرلے کہ و ہ و ہاں جاکرعملی زندگی میں دین کےاحکامات پر کار بند رہے گا ۔
2۔ اسی طرح ا گر کوئی معاشی مسئلہ سے دو چار ہوجائےاور تلاشِ بسیار کے باو جود اسے اپنے اسلامی ملک میں معاشی وسائل حاصل نہ ہوں حتیٰ کہ وہ ’’ قوت لا یموت ‘ کامحتاج ہوجائےان حالات میں ا گر ا س کو کسی غیرمسلم ملک میں کوئی جائز ملازمت مل جائےجس کی بناء پروہاں رہائش اختیار کرےتو اس کیلئےو ہاں رہائش اختیار کرنا جائز ہے۔
3۔ اسی طرح ا گر کوئی شخص کسی غیرمسلم ملک میں اس نیت سےرہائش اختیار کرتا ہے کہ وہ وہاں کےغیرمسلموں کو اسلام کی دعوت دے گا ،اور ان کو مسلمان بنائےگا یا جومسلمان و ہاں مقیم ہیں اُن کو شریعت کےصحیح احکام بتائے گا اوران کو دینِ اسلام پر جمےرہنے اور ا حکامِ شرعیہ پرعمل کرنے کی ترغیب دے گا اس نیت سےوہاں رہائش اختیار کرناصرف یہ نہیں کہ جائز ہے بلکہ موجب اجر و ثواب ہے۔
۴۔ اگر کسی کو اپنے ملک میں اس قدر معاشی و سائل حاصل ہیں جس کے ذریعے وہ ا پنے شہر کے لوگوں کے معیار کے مطابق زندگی گزارسکتا ہے لیکن صرف معیارِ زندگی بلند کرنے کی غرض سے اور خوشحالی اور عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کی غرض سے کسی غیر مسلم ملک کی طرف ہجرت کرتا ہے تو ایسی ہجرت کراہت سے خالی نہیں ،اس لئے کہ اس صورت میں دنیاوی ضروریات کیلئے اپنے آپ کو وہاں رائج شدہ فو احشات و منکرات کے طوفان میں ڈالنے کے مترادف ہے ،اور بلا ضرورت ا پنی دینی اور اخلاقی حالت کو خطرے میں ڈالنا کسی طرح بھی درست نہیں، اس لئے جو لوگ صرف عیش و عشرت اور خوشحالی کی زندگی بسر کرنے کیلئے وہاں رہائش اختیار کرتے ہیں ان میں دینی حمیت کمزور پڑجاتی ہے ،چنانچہ ایسے لوگ کافرانہ محرکات کے سامنے تیز رفتاری سے پگھل جاتے ہیں، اسی وجہ سے حدیث شریف میں شدید ضرورت اور تقاضے کے بغیر مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار کرنے کی ممانعت آئی ہے۔
قال اللہ تعالی : ھو الذی جعل لکم الارض ذلولاً فا مشو ا فی مناکبہا و کلو من رزقہ و الیہ النشور (الملک /15)۔
و فی سنن ابی داود : عن سمرۃ بن جندب اما بعد قال رسول اللہ ﷺ من جامع المشرک و سکن معہ فانہ مثلہ (2/37)۔