السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب جیساکہ موجودہ دور کے تقریباً سارے مغربی ممالک کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں کے خلاف حالت جنگ میں ہیں، یا پھر ماضی قریب میں جنگ کرچکے ہیں، اور شکست کے بعد مختلف ہتکنڈوں سے مسلمانوں کو شکست دینے کی کوشش کررہے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت حال میں کسی مسلمان کے لئے ایسے مغربی ملک جانا چاہیئے، سیر وتفریح کی غرض سےہو، یا کاروبار یا نوکری کی غرض سے ہو، سفر کرنا جائز ہے؟
کسی مسلمان کے لئے غیر مسلم ممالک میں سیر وتفریح یا ملازمت کے لئے جانا جائز ہے، بشرطیکہ اس میں شرعی طور پر کوئی مفسدہ نہ ہو۔
کما قال اللہ تعالی: قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ (42)سورۃ الروم)۔
وفی الدر المختار: باب المستأمن أي الطالب للأمان (هو من يدخل دار غيره بأمان) مسلما كان أو حربيا (دخل مسلم دار الحرب بأمان حرم تعرضه لشيء) من دم ومال وفرج الخ (ج4 صـ166 ط: دار الفکر)۔