کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے چترال اور شمالی علاقہ جات کے اندر آغا خان فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارہ مختلف اسکیموں کے تحت غریب مسلمانوں کو اپنا ہمنوا بنانے کیلئے کوشاں ہے، ان اسکیموں میں سے ایک زمینوں کو پانی سے سیراب کرنے کی بھی ہے، جس کیلئے وہ لوگوں سے سیکورٹی کے طور پر پیشگی کچھ رقم بھی وصول کرتے ہیں، بہرحال ہمارے علاقہ میں کچھ با اثر دیندار لوگوں نے اس پانی اسکیم کا بائیکاٹ کرکے ان کا تعاون حاصل کرنے سے انکار کردیا ہے، کیونکہ ملک کے بڑے بڑے مدارس بالخصوص جامعہ بنوری ٹاؤن و جامعہ فریدیہ وغیرہما نے مذکورہ تنظیم کے کسی قسم کے تعاون قبول کرنے کو حرام قرار دیا ہے، اس انکار کی بناء پر مذکورہ تنظیم کے کچھ بااثر افراد نے ایک قرار داد منظور کرواکر جس پر حکومتی عہدیداران سے بھی دستخط کروائے ہیں جس میں یہ مرقوم ہے کہ (۱) اس وقت جو بھی تنظیم سے تعاون نہ کرے (یعنی پیشگی رقم جمع نہ کرائے) اور بعد میں اس پر آمادہ ہوجائے تو اس کو سیکورٹی کے پیسے ڈبل بلکہ اس سے بھی زیادہ دینے ہوں گے، (۲) تنظیم کے فراہم کردہ پانی سےسیراب شدہ زمین کی قیمت زیادہ اور اس کے علاوہ زمین کی قیمت کم ہوگی یا بنجر تصور ہوگی۔
اب آپ حضرات سے مندرجہ ذیل سوالات کی وضاحت مع الدلائل مطلوب ہے۔
(۱) ان لوگوں کے اس طرح قرارداد منظور کرنے کا کیا حکم ہے؟
(۲) اگر کسی اور صورت میں پانی ملنے کا کوئی امکان نہ ہو اور جو بندہ دل سے فتاویٰ کی روشنی میں ان کے تعاون قبول کرنے کو حرام بھی سمجھتا ہے، اب اس کیلئے اس پانی کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟
(۳) بعض حضرات کا کہنا ہے کہ حکومت پانی کا انتظام نہیں کرتی اور اس تنظیم کے پانی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ہم مجبوری کی بناء پر استعمال کرتے ہیں، تواس مجبوری کی کیا حد ہے؟
(۴) ایک آدمی کی زمین سے نہر گزر کر دوسرے شخص کی زمین تک جاتی ہے تو کیا اب وہ شخص اپنی زمین سے نہر نکالنے سے منع کرسکتا ہے یا نہیں؟
(۵) اس پانی سے سیراب شدہ زمین اور غلے کا کیا حکم ہے؟
(۶) کچھ فاصلے پر پینے کا پانی موجود ہے، اب اس مذکورہ پانی سے جانوروں کو پانی پلانے اور اس کو پینے اور اس سے سالن وغیرہ بنانے کا کیا حکم ہے؟
(۷) اگر دوسرے شخص کی زمین سے پانی نکال کر دوسری زمین کو غیر ارادی طور پر سیراب کرے تو اس غلّے کا کیا حکم ہے؟
(۸) اس پانی کے استعمال کرنے والوں سے بطورِ عبرت قطع تعلقی جائز ہے یا نہیں؟
(۹) علماء کے فتاویٰ کےموجودگی میں کچھ مولوی حضرات مفاد کی خاطر اس کی حلت کا فتویٰ دیتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟
(۱۰) اب لوگوں کو حرام سے بچانے کیلئے اس تنظیم کی اسکیموں (خصوصاً نکاسیٔ آب کو) خراب کرنا جائز ہے یا نہیں؟
ان تمام باتوں کی مکمل وضاحت مع الدلائل فرماکر اس اہم مسئلہ میں ہماری معاونت فرمائیں۔ جزاکم اللہ اجراً جزیلاً!
اصل جواب سے پہلے فرقہ اسماعیلیہ (یعنی آغا خانی جنہیں قرامطہ کے نام سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے) کے کفر اور ان کی اسلام دشمنی پر ایک تمہیدی بیان تحریر کیا جاتا ہے، اس کے بعد مندرجہ سوالات کا مختصراً جواب لکھا جائے گا، وہ تمہید یہ ہے کہ آغا خانی اپنے کفریہ عقائد، ملحدانہ نظریات اور باطل افکار کی بناء پر اہل السنت والجماعت کے ہاں بالاتفاق کافر ہیں اور اس پر مذاہب اربعہ کا اتفاق منقول ہے، اس لئے ان کے ساتھ مذہبی و معاشرتی حوالے سے کسی قسم کی رواداری جائز نہیں بلکہ ناجائز و حرام ہے، وہ تمام مراعات اور رواداریاں جن کو اسلامی معاشرہ ملکی باشندے کا حق تسلیم کرتا ہے خواہ وہ باشندہ کافر ہی کیوں نہ ہو، یہ آغا خانی فرقہ اُن میں سے کسی بھی مراعات یا رواداری کا مستحق نہیں، حتیٰ کہ عام کافر یہودی، عیسائی اور مجوسی وغیرہ دوسرے کفار جزیہ دیکر حکومتِ اسلامیہ کے ماتحت رہنا چاہیں تو رِہ سکتے یں مگر ائمہ اربعہ کی متفقہ رائے کے مطابق اس آغا خانی فرقے کو جزیہ دیکر بھی حکومتِ اسلامیہ میں رہنے کی بالکل اجازت نہیں، جس کی بنیادی وجہ ان کی اسلام دشمنی کے علاوہ وہ خطرناک عزائم اور سازشیں ہیں جن کے ذریعے انہوں نے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا بلکہ بڑی بڑی اسلامی سلطنتوں کو تباہ و برباد کرنے میں کامیاب ہوتے رہے، ان کی یہ سازشیں صرف یہ نہیں کہ ماضی کا حصہ بن چکی ہیں بلکہ تا ہنوز بدستور جاری ہیں۔
شریعتِ اسلامیہ کی رو سے کفار کی جانب سے کوئی بھی ایسی امداد وصول کرنا جس میں دینی، ایمانی اور مذہبی نقصان ہو اور اسلام کی شان و شوکت پر حرف آتا ہو یا اُسے اختیار کرنے سے اسلامی مؤقف میں لچک پیدا کرنے کیلئے طمع و لالچ یا رشوت کا پہلو ہو، قطعاً ناجائز و حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے، بلکہ ایسے حالات میں علاقہ کے اہلِ علم اور ذی اثر لوگوں پر لازم ہے کہ حکومت سے پرزُور مطالبہ کریں کہ وہ آغا خانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے اور جو علماء اپنے مفاد کی خاطر اس کی حلت کا فتویٰ دیتے ہیں انہیں پہلے سمجھایا جائے، اگر وہ ترغیب دینےسے باز آجائیں تو بہتر ورنہ اُن کے ساتھ مقاطعہ کیا جائے اور اُن کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے بھی اس وقت تک احتراز لازم ہے جب تک کہ وہ اپنی اس حرکت سے باز نہ آجائیں، اس اصولی تمہید کے بعد مختصراً سائل کے سوالات کے جوابات تحریر کئے جاتے ہیں:
(۱) اس کا حکم شرعی یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس قرارداد کی تصدیق یا اس میں شرکت کی ہے وہ مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی میں حصہ لینے کی وجہ سے سخت گنہگار ہوئے ہیں، اُن پر بصدقِ دل توبہ واستغفار اور اپنے تعاون سے برأت کا اعلان لازم ہے۔
(۲،۳) اگر واقعۃً ایسی صورت پیش آجائے کہ مذکور پانی کے علاوہ اور کسی جگہ سے پانی دستیاب نہ ہو تو بقدرِ ضرورت استعمال کرنے کی گنجائش ہے، تاہم جیسے ہی کسی دوسرے واسطہ سے پانی کا حصول ہو جائے تومذکور پانی کے استعمال سے احتراز لازم ہے۔
(۴) جب مذکور نہر سے مقصود سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کا سودا کرنا ہے تو ایسے ناجائز اور حرام مقصد کی خاطر حتی الامکان اپنی زمین سے نہر گزرنے سے روکنا لازم ہے، تاکہ سارا پانی زنادقہ کے دستبرد سے محفوظ ہوجائے۔
(۵) مذکور پانی کے ذریعہ حاصل ہونے والے اناج وغیرہ کے حلال ہونے کے باوجود اس کے استعمال سے احتراز غیرتِ ایمانی کا تقاضہ ہے۔
(۶) کچھ فاصلہ سے حاصل ہونے والے پانی کا استعمال لازم اور مذکورہ نہر کے پانی کے حلال ہونے کے باوجود اس کے استعمال سے احتراز لازم ہے۔
(۷) ایسے غلّہ کو بلاشبہ اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں۔
(۸) اگر اُن کے استعمال کیلئے قریب کسی دوسرے چشمہ وغیرہ کا پانی ہو اور اس کے استعمال میں مشقت شدیدہ بھی نہ ہوتی ہو اور وہ پانی اُن سب کیلئے کافی بھی ہو تو ایسی صورت میں اُن لوگوں کو نرمی اور حسنِ سلوک سے سمجھایا جائے اور انہیں مذکور فرقۂ باطلہ کے عزائم میں معاون بننے سے روکا جائے، اس کے باوجود بھی بلاوجہ باز نہ آنے والے سے قطع تعلقی بھی جائز اور درست ہے۔
(۹) وہ سخت گناہگار ہیں، انہیں اپنے ناجائز رویہ سے احتراز لازم ہے، اگر وہ باز نہ آئیں اور وہ امام و خطیب بھی ہوں تو قطع تعلق کے ساتھ ان کی اقتداء میں اس وقت تک نماز پڑھنے سے احتراز لازم ہے جب تک کہ وہ باز نہ آئیں، اور اگر وہ امام و خطیب نہ ہوں تو پھر اُن سے قطع تعلقی اختیار کی جائے۔
(۱۰) اگر عزت و آبرو اور جان كا اندیشہ نہ ہو تو مذکور عمل کی گنجائش ہے ورنہ نہیں۔
وفی الشامیۃ: یعلم ممّا هنا حكم الدروز والتیامنۃ فانهم فی البلاد الشامیۃ یظهرون الاسلام والصوم والصّلوۃ مع أنهم یعتقدون تناسخ الأرواح وحلّ الخمر والزنا وأنّ الألوهیۃ تظهر فی شخص بعد شخص (إلٰی قوله) وللعلامۃ المحقق عبد الرحمٰن العمادی فیهم فتوی مطوّلۃ وذكر فیها أنّهم ینتحلون عقائد النصیریۃ والإسماعیلیۃ الذین یلقّبون بالقرامطۃ الباطنیۃ الّذین ذكرهم صاحب المواقف ونقل عن علماء المذاهب الاربعۃ أنّه لا یحلّ اقرارهم فی دیار الإسلام بجزیۃ ولا غیرها ولا تحلّ مناكحتهم ولا ذبائحهم۔ اهـ (ج٤، ص٢٤٤)۔
قال الإمام الآلوسیؒ: والمجرمین جمع مجرم والمراد بہ من أوقع غیره فی الجرم أو من أدّت معاونته إلٰی جرم ... واحتج اهل العلم بهٰذه الآیۃ علٰی المنع من معونۃ الظلمة وخدمتهم اهـ۔ (روح المعانی: جلد ٢٠، ص٥٥،٥٦)۔
وفی الاشباه والنظائر: ما ابیح للضرورة یتقدر بقدرها۔ (ج۱، ص٢٥٣)۔
وقال تعالٰی: وتعاونوا علی البرّ والتقوٰی ولا تعاونوا علی الإثم والعُدوان۔ الآیۃ (آیت۲ سورۃ المائدۃ)۔
وفی عمدۃ القاری: فأما من جنی علیه، وعصٰی ربه فجاءت الرّخصۃ فی عقوبته بالهجران كالثلاثۃ المتخلّفین ... وقال احمد رحمه الله لا یبرأ من الهجرة إلّا بعوده إلی الحالۃ التی كان علیها أوّلًا۔ (ج۲۳، ص۱۳۷ بیروت)۔
وفی الدّر المختار: ویکرہ امامۃ عبد ..... وفاسق، وفی ردّ المحتار (قولہ وفاسق) من الفسق وهو الخروج عن الإستقامۃ۔ اهـ (ج۱، ص۵۶۰)۔
وفی أحكام القرآن: أمّا الموالاۃ فلا تجوز بحال ..... وأمّا المداراۃ فتجوز فی مواضع ثلاثۃ ....۔ فلا تجوز لمصلحۃ نفسه من جلب مال أو جاه ونحوهما لا سیّما إذا احتملت الإفضاء إلٰی ضرر الدّین۔ (ج٢، ص١٥)۔
عن ابی سعید الخدریؓ عن رسول الله ﷺ قال: من رأی منكم منكرًا فلیغیّره بیده، فإن لّم یستطع فبلسانه فإن لم یستطع فبقلبه وذٰلك أضعف الإیمان۔ (رواه مسلم: ص٤٣٦)۔
اللّٰهم أرنا الحق حقًّا وارزقنا اتّباعۃ وأرنا الباطل باطلًا وارقنا اجتنابه۔ والله الموفّق