السلام علیکم جناب مفتی صاحب! امید کرتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے بخیر ہونگے۔ میرا سوال یہ ہےکہ مسلمان عیسائیوں کا مذہبی تقاریب میں شرکت کر سکتے ہیں؟ کیا ان تقاریب میں کچھ کھا پی سکتے ہیں ؟ اگر کوئی عیسائی کرسمس پر کیک یا مٹھائی وغیرہ کھلائے تو کیا مسلمان کھا سکتا ہے؟ اگر کبھی عیسائی دفتر میں کوئی ہو اور وہ گھر کا کھانا لایا ہو،اور اصرار کرے کھانے پر تو کیا کھانا چاہیے؟ اگر نہیں کھائیں گے تو وہ ناراض ہو جائے گا؟ ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟ میں اس لیے اس کے ساتھ کھاتا پیتا ہوں کہ شاید وہ مسلمان ہو جائے ۔ کیا میرا ایسا کرنا جائز ہے؟ براہ مہربانی تفصیل سے آگاہ کریں ؟ اور تمام مفتیان کرام سے دعاؤوں کی خصوصی درخواست ہے؟ والسلام
جاننا چاہیئے کہ کرسمس عیسائیوں کا مذہبی تہوار ہے جسے عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے دن کے طور پر مناتے ہیں اور غیر مسلموں کی مذہبی تہوار میں شرکت کرنا یا اس دن انہیں اس تہوار کے لئے مبارک باد دینا کسی بھی مسلمان کے لئے شرعا ممنوع اور ناجائز ہے جس پر احادیث مبارکہ میں وعید بھی وارد ہوئی ہے، لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔ جبکہ غیر مسلموں کا کھانا اگر پاک اور حلال ہونے کا یقین ہو تو اس کو کھانے میں حرج نہیں، لیکن اس طرح غیر مسلموں سے تعلق بڑھانے اور ان کے ساتھ کھانے کی عادت بنا لینا مکروہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففي التاتارخانية: وما يأته به المجوس في نيروزهم من الاطعمة الى الاكابر والسادات من كانت بينهم وبينهم معرفة ذهاب و محئى فقد قيل ان من أخذ ذلك على وجه الموافقة لفرحهم يضر ذلك بدينه وان من أخذ لا على ذلك الوجه لا بأس به اھ(۵/ ۵۳۲)
و في شرح فقه الاكبر : و في الخلاصة من وضح قلنسوة المجوس على رأسه قال بعض يكفر قال بعض المتاخرين إن كان لضرورة البرد أولان البرد لا تعطيه اللين لا يكفر والا كفر اھ (ص: ۱۸۵) والله اعلم بالصواب