غیر مسلموں کی عبادت گاہ پر حملہ کرنا؟ امت محمدیہ ﷺ کا ملت ابراہیمی پر ہونے کا کیا مطلب ہے؟ملت اور امت میں کیا فرق ہے؟اسلام غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر حملہ کی اجازت نہیں دیتا، تو پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بتوں کو توڑنے کی کیا توجیہ کی جائے گی؟
امت محمدیہ ؐ کا ملتِ ابراہیمی پر ہونے کا یہ مطلب ہے کہ بہت ساری چیزوں میں امتِ محمدیہ ملت ابراہیمی کی اتباع کرتی ہے، مثلاً استقبالِ قبلہ میں اور حج کے فرض ہونے میں، اس شخص پر جب وہ حج کی استطاعت رکھتا ہو، اور تمام رسولوں پر ایمان لانے میں، اور لاالہ الا اللہ میں ،تحریم امہات ، بنات ، خالات اور عمات میں، اور جو چیز رب العزت نے حرام کی ہے اس میں ،وغیرہ وغیرہ۔
ملت اور امت میں فرق یہ ہے کہ ملت شریعت یادین کو کہتے ہیں، جبکہ امت کے لفظی معنی جماعت کے آتے ہیں، اور عام عرف میں جو کسی دین مکان یا زمان میں مشترک ہوں۔
ہماری شریعت غیر مسلموں کی عبادت گاہ پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی، جبکہ وہ دار الاسلام میں ہو، اور اسلامی حکومت اور ریاست نے انکو اجازت دیدی ہو، جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کسی عبادت خانہ کو نہیں ڈھایا البتہ مصلحِ قوم ہونے کی وجہ سے لوگوں کا اعتقاد درست کرنے کے لئے بتوں کو توڑا تھا۔
کما فی تفسیر ابن کثیر: تحت (قولہ تعالٰی: قل بل ملۃ ابراھیم حنیفا) ای لانرید مادعوتمونا الیہ من الیھودیۃ والنصرانیۃ بل نتبع (ملۃ ابراھیم حنیفا) ای مستقیما (الی قولہ) قال ابو العالیۃ الحنیف الذی یستقبل البیت بصلاتہ ویری ان حجہ علیہ ان استطاع الیہ سبیلا وقال مجاہد والربیع بن انس حنیفا ای متبعا وقال ابو قلابۃ الحنیف الذی یومن بالرسل کلھم اوّلھم الی اخرھم وقال قتادۃ الحنیفیۃ شھادۃ ان لا الہ الا اللہ یدخل فیھا تحریم الامھات، والبنات، والخالات، والعمات وماحرم اللہ عزوجل والختان الخ (ج1 صـ246)۔
وفی رد المحتا: تحت(قوله: بحر) عبارته قال في فتح القدير: واعلم أن البيع والكنائس القديمة في السواد لا تهدم على الروايات كلها، وأما في الأمصار فاختلف كلام محمد، فذكر في العشر والخراج تهدم القديمة وذكر في الإجارة لا تهدم، وعمل الناس على هذا، فإنا رأينا كثيرا منها توالت عليها أئمة وأزمان، وهي باقية لم يأمر إمام بهدمها؛ فكان متوارثا من عهد الصحابة وعلى هذا لو مصرنا برية فيها أو كنيسة فوقع داخل السور، ينبغي أن لا يهدم لأنه كان مستحقا للأمان قبل وضع السور فيحمل ما في جوف القاهرة من الكنائس على ذلك، فإنها كانت قضاء فأدار العبيديون عليها السور، ثم فيها الآن كنائس ويبعد من إمام تمكين الكفار من إحداثها جهارا وعلى هذا أيضا فالكنائس الموضوعة الآن في دار الإسلام غير جزيرة العرب كلها ينبغي أن لا تهدم لأنها إن كانت في الأمصار قديمة، فلا شك أن الصحابة أو التابعين حين فتحوا المدينة علموا بها وأبقوها، وبعد ذلك ينظر فإن كانت البلدة فتحت عنوة حكمنا بأنهم أبقوها مساكن لا معابد فلا تهدم ولكن يمنعون من الاجتماع فيها للتقرب، وإن عرف أنها فتحت صلحا حكمنا بأنهم أقروها معابد فلا يمنعون من ذلك فيها بل من الإظهار. اهـ. (ج4 صـ206 ط: دار الفکر)۔
وفی معجم البسیط: ملۃ الشریعۃ او الدین کملۃ الاسلام والنصرنیۃ وھی اسم لما شرع اللہ لعبادہ بواسطۃ انبیائہ لیتوصلوا بہ الی السعادۃ فی الدنیا والآخرۃ الخ (صـ887)۔
وفیہ ایضاً: (الامۃ) الوالدۃ وجماعۃ من الناس اکثرھم من اصل واحد، وتجمعھم صفات مورثۃ، ومصالح وامانی واحدۃ او یجمعھم امر واحد من دین اور مکان او زمان یقال الامۃ المصرانیۃ والامۃ العراقیۃ الخ (صـ27)۔
وفی تفسیر ابن کثیر: تحت (قولہ تعالٰی: فاقبلوا الیہ یزفون) فلما جاءوا لعاتبوہ اخذ فی تأنیبھم وعیبھم فقال (اتعبدون ماتنختون) ای اتعبدون من دون اللہ من الاصنام ما انتم تنختونھا وتجعلونھا بایدیکم الخ (4 صـ19)۔