السلام علیکم
محترم مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ ایک قادیانی ڈاکٹر ہے، جس کے ساتھ ہسپتال میں کام کے حوالے سے کام آجاتا ہے، اس وجہ سے ملتا رہتا ہے، لیکن چونکہ جان پہچان ہے اس لئے کیا ہم قادیانی کو کافر سمجھتے ہوئے اور کولیگز کے ساتھ بیٹے کے ولیمے کے تقریب میں شرکت کے لئے مدعو کر سکتے ہیں؟
قادیانی چونکہ اپنے کفریہ عقائد ( جیسے عقیدۂ ختم نبوت ، رفع و نزولِ عیسی علیہ السلام کے انکار اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی گستاخیاں کرنے اور ان کو گالیاں وغیرہ بکنے ) کی بناء پر شرعاً و قانوناً خبیث الاعتقاد کا فر اور زندیق ہیں، اور ان کے ساتھ اس قسم کے روابط رکھنے سے ان کی نفرت دل سے نکلنے کا اندیشۂ قوی ہونے کے علاوہ اور بھی مفاسد ہیں ، لہذا سائل کا بوقتِ مجبوری قادیانی ڈاکٹر کے ساتھ بات چیت کرنا اگرچہ جائز ہو مگر اس کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھنایا اسے اپنے بیٹے کی دعوت ولیہ میں مدعو کرنا ہرگز درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار: (و) اعلم أن تصرفات المرتد على أربعة أقسام ف (ينفذ منه) اتفاقا ما لا يعتمد تمام ولاية، وهي خمس: (الاستيلاد والطلاق وقبول الهبة وتسليم الشفعة والحجر على عبده) المأذون (ويبطل منه) اتفاقا ما يعتمد الملة وهي خمس (النكاح، والذبيحة، والصيد، والشهادة، والإرث. ويتوقف منه) (4/ 249)-
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ما يعتمد الملة) أي ما يكون الاعتماد في صحته على كون فاعله معتقدا ملة من الملل ط أي والمرتد لا ملة له أصلا لأنه لا يقر على ما انتقل إليه، وليس المراد ملة سماوية لئلا يرد النكاح فإن نكاح المجوسي والوثني صحيح ولا ملة لهما سماوية بل المراد الأعم اھ (4/ 249)-