کیا غیر مسلم (ہندو) کے ساتھ مشترکہ کاروبار کیا جاسکتا ہے؟ نیز ان کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا کھاسکتے ہیں؟
اگر کبھی کبھار غیر مسلم کے ساتھ کھانا کھانے کی نوبت پیش آجائے تو اس کے ساتھ بیٹھ کر ایک برتن میں کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں، البتہ ہمیشہ ایسا کرنا مکروہ ہے، جس سے احتراز کرنا چاہئے۔
جبکہ غیر مسلم چونکہ عموماً کاروباری لین دین میں احکامِ شریعت کی پابندی کا خیال نہیں رکھتا اس لئے اس کےساتھ کاروباری اشتراک نہ کیا جائے تو بہتر ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ کاروباری اشتراک کی وجہ سے احکامِ شریعت کی مخالفت نہ ہوتی ہو تو پھر اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
کما فی الہندیۃ: ولم یذکر محمد ؒ الأکل مع المجوسی ومع غیرہ من أہل الشرک أنہ ہل یحل أم لا وحکی عن الحاکم الإمام عبد الرحمن الکاتب أنہ إن ابتلی بہ المسلم مرۃ أو مرتین فلا بأس بہ وأما الدوام علیہ فیکرہ۔ اھـ (ج۵، ص۳۴۷).
وفیہ ایضًا: لا بأس بأن یکون بین المسلم والذمی معاملۃ إذا کان مما لا بد منہ کذا فی السراجیۃ۔ اھـ (ج۵، ص۳۴۸) واللہ اعلم بالصواب